داود کی بیوی کے ہندوستان آنے اور واپس چلے جانے کے سلسلے میں جواب دیں مودی: کانگریس

نئی دہلی۔ کانگریس نے آج کہا کہ انڈرورلڈ ڈان داود ابراہیم کی بیوی کا چپ چاپ ہندوستان آنا اور پاکستان لوٹنا ملک کی سلامتی کا سنگین معاملہ ہے اس لئے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کو اس پر جواب دینا چاہئے۔

Sep 23, 2017 09:42 PM IST | Updated on: Sep 23, 2017 09:42 PM IST

نئی دہلی۔  کانگریس نے آج کہا کہ انڈرورلڈ ڈان داود ابراہیم کی بیوی کا چپ چاپ ہندوستان آنا اور پاکستان لوٹنا ملک کی سلامتی کا سنگین معاملہ ہے اس لئے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کو اس پر جواب دینا چاہئے۔ کانگریس میڈیا سیل کے سربراہ رندیپ سنگھ سرجے والا نے آج یہاں ایک بیان میں کہا کہ داود ابراہیم کی بیوی مہ جبین شیخ گذشتہ سال ممبئی آئی اور پندرہ دن یہاں رہنے کے بعد پاکستان لوٹ گئی ۔ حکومت اور اس کی سیکورٹی ایجنسیوں کو بھنک تک نہیں لگی کہ ایک خطرناک دہست گرد کی بیوی ممبئی آئی اور یہاں پندرہ دنوں تک رکنے کے بعد پاکستان لوگ گئی۔

انہوں نے اسے قومی سلامتی کی سطح پر حکومت کی ناکامی قرار دیا اور کہا کہ کن حالات داود ابراہیم کی بیوی ہندوستان آئی اور آسانی سے پاکستان لوٹ گئی ۔ اسے گرفتار کرنا تو دور کی بات اس کے آنے جانے کی کسی کو خبر تک نہیں ہوسکی۔ ترجمان نے کہا کہ مسٹر مودی اور مسٹر سنگھ کو اس سلسلے میں ملک کے عوام کو جواب دینا چاہئے ۔ وزیر اعظم کو اس سلسلے میں جواب دہی طے کرکے یہ بتانا چاہئے کہ اس کے لئے ذمہ دار لوگوں کے خلاف کس طرح کی کارروائی کی گئی۔

داود کی بیوی کے ہندوستان آنے اور واپس چلے جانے کے سلسلے میں جواب دیں مودی: کانگریس

کانگریس لیڈر رندیپ سنگھ سرجیوالا: فائل فوٹو

قبل ازیں کانگریس کے ترجمان راجیو شکلا نے یہاں نامہ نگاروں سے کہا کہ میڈیا میں خبر ہے کہ داود کی بیوی مہ جبیں شیخ گذشتہ سال ہندوستان آئی تھی اورممبئی میں پندرہ دن تک رہنے کے بعد خاموشی سے لوٹ گئی تھی۔ وہ اپنے والد سے ملاقات کے لئے آئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اگر خبر درست ہے تو یہ معاملہ نہایت سنگین ہے اور حکومت کو بتانا چاہئے کہ اس کی خفیہ ایجنسیاں کیا کررہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ پورا ملک دہشت گردی کی جنگ لڑ رہا ہے اور ایک دہشت گرد کی بیوی ملک میں آکر دو ہفتے تک رہتی ہے اور اس کے باوجود کسی کو بھنک لگے بغیر لوٹ جاتی ہے تو یہ دہشت گردی کے خلاف ہماری لڑائی پر بھی سوال اٹھاتا ہے اس لئے حکومت کو اس سلسلے میں جواب دینا چاہئے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز