مودی کے پرانے ویڈیو کو ہی دکھا اب کانگریس نے وزیر اعظم پرسادھا نشانہ ، پوچھے وہی پانچ سوالات

Feb 14, 2018 07:43 PM IST | Updated on: Feb 14, 2018 07:43 PM IST

نئی دہلی : کانگریس نے دہشت گردی اور دراندازی کے واقعات کو روکنے کے لئے حکومت پر ٹھوس قدم نہ اٹھانے کا الزام لگاتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی سے آج وہی پانچ سوال کئے جن کا مسٹر مودی نے پانچ سال پہلے اس وقت کے وزیر اعظم منموہن سے جواب مانگا تھا۔ کانگریس کے سینئر ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی نے یہاں پارٹی کی باقاعدہ پریس بریفنگ میں کہا کہ مسٹر مودی نے پانچ سال پہلے متحدہ ترقی پسند اتحاد حکومت کے دور کے دوران وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ پر دہشت گردانہ واقعات کو روکنے میں ناکام رہنے کا الزام لگاتے ہوئے ان سے پانچ سوال پوچھا گیا تھا لیکن اقتدار میں آنے کے بعد صورت حال کئی گنا خراب ہو گئی ہے لیکن وہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں ۔

کانگریس ترجمان نے ایک عوامی اجتماع میں مسٹر مودی کے پانچ سال پہلے کی گئی ایک تقریر کا ویڈیو صحافیوں کو دکھایا اور عین وہی سوال دہراتے ہوئے ان سے پوچھا ’’ہمیں جواب دیجیے کہ یہ جو دہشت گرد ہے، ان کے پاس جو بارود اور اسلحہ ہیں وہ کہاں سے آتے ہیں ؟ وہ تو غیر ملکی زمیں سے آتے ہیں؟ اور سرحدیں مکمل طور پر آپ کے قبضے میں ہیں؟ سرحدی سلامتی فورس آپ کے قبضے میں ہے‘‘۔مسٹر مودی کے انداز میں ہی ترجمان نے اگلا سوال دہرایا’’ہم آپ سے دوسرا سوال پوچھنا چاہتے ہیں، دہشت گردوں کے پاس دولت آتی ہے، کہاں سے آتی ہے ، پیسے کے پورے لین دین کا کاروبار حکومت ہند کے قبضے میں ہے۔ ریزرو بینک کے تحت ہے، بینکوں کے ذریعے ہوتا ہے، کیا وزیر اعظم آپ اتنی نگرانی نہیں رکھ سکتے کہ یہ جو دولت بیرون ملک سے آکر دہشت گردوں کے پاس جاتا ہے، آپ کے ہاتھ میں ہیں، آپ اس کو کیوں نہیں روکتے ہیں‘‘۔

مودی کے پرانے ویڈیو کو ہی دکھا اب کانگریس نے وزیر اعظم پرسادھا نشانہ ، پوچھے وہی پانچ سوالات

تیسری سوال بھی انہی کی زبان میں پوچھتے ہوئے مسٹر سنگھوی نے کہا ’’بیرون ملک سے جودرانداز آتے ہیں، جو دہشت گردوں کی شکل میں آتے ہیں، دہشت گردانہ واقعہ کرتے ہیں اور فرار ہوجاتے ہیں ، وزیر اعظم جی آپ ہمیں بتائیے،سرحدیں آپ کے ہاتھ میں ہیں، ساحلی سیکورٹی آپ کے ہاتھوں میں ہے، سرحدی سیکیورٹی فورس، آرمی سب آپ کے ہاتھوں میں ہے، بحریہ آپ کے ہاتھوں میں ہے، یہ بیرون ملک سے درانداز ملک میں کیسے داخل ہوجاتے ہیں؟‘‘

کانگریس نے چوتھا سوال بھی مسٹر مودی کے ہی انداز میں پوچھا ’’ہم چوتھا سوال پوچھتے ہیں، سارے مواصلاتی نظام آپ کے ہاتھ میں ہے، کوئی بھی اگر ٹیلی فون پر بات کرتا ہے، ای میل کرتا ہے، کوئی مواصلات کرتا ہے، حکومت ہند اس کو بلاک کر سکتی ہے، بلاک کرکے معلومات حاصل کر سکتی ہےکہ دہشت گرد کیا بات کر رہے ہیں اور آپ اسے روک سکتے ہو۔ ہم پوچھنا چاہتے ہیں اور آپ کا ہی سوال دہرا رہیں ہے- وزیر اعظم مودی جی، اس بارے میں آپ نے کیا کیا ہے؟ ‘‘

پارٹی نے آخري سوال دہشت گردوں کی حوالگی کے بارے میں انہی کے انداز میں پوچھا ’’ہم پانچویں سوال پوچھتے ہیں، بیرون ملک جو دہشت گرد بھاگ چکے ہیں، بیرون ملک بیٹھ کر جو ہندوستان میں دہشت گردانہ واقعات انجام دے رہے ہیں ، ان کی حوالگی کرکے بیرون ملک سے ہندوستان لانے کا ہمیں حق ہوتا ہے، آپ کی خارجہ پالیسی میں کیا طاقت ہے؟ ایک بار ان پانچوں چیزوں پر کچھ کرکے دکھائیے، دہشت گردی جڑ سے مٹ جائے گی۔

مسٹر سنگھوی نے کہا کہ مودی حکومت کے پاس اپوزیشن کے سوالوں کے جواب نہیں ہیں کیونکہ اس کی میعاد میں دہشت گردی، دراندازی اور جنگ بندی کے واقعات کئی گنا بڑھے ہیں۔ ہر سوال پر مسٹر مودی خاموشی اختیار کرلیتے ہیں اور سوالات کا ٹھوس جواب دینے کی بجائے قوم پرستی اور جملوں کے طور پر جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب جواب دینا ہوگا اور ٹھوس بنیاد پر جواب چاہئے جملوں سے کام نہیں چلنے والا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ مودی حکومت کے 45 ماہ کی مدت کار میں دہشت گردی کے 207 بڑی واقعات ہوئے ہیں جبکہ یو پی اے حکومت کے 45 ماہ میں 96 واقعات ہوئے تھے۔ اسی طرح سے جموں و کشمیر میں اس مدت میں 286 جوان شہید ہوئے ہیں جبکہ یو پی اے کے وقت اتنی مدت میں 115 جوان شہید ہوئے تھے۔ اس حکومت کے دور میں تشدد میں 138 عام شہری مارے جا چکے ہیں جبكہ یوپی اے میں یہ تعداد 72 تھی۔ مودی حکومت کے اب تک کے دور میں جنگ بندی کی 2555 وارداتیں ہو چکی ہیں جبکہ یو پی اے کے وقت 45 ماہ میں 543 واقعات ہوئے تھے۔ جنگ بندی کے واقعات میں تب 19 جوان شہید ہوئے تھے لیکن مودی حکومت کے دور میں اب تک 62 جوان شہید ہو چکے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز