گجرات راجیہ سبھا الیکشن کی لڑائی پہنچی دلی، الیکشن کمیشن میں کانگریس۔ بی جے پی آمنے سامنے

Aug 08, 2017 08:39 PM IST | Updated on: Aug 08, 2017 08:39 PM IST

نئی دہلی۔ گجرات راجیہ سبھا انتخابات کی لڑائی اب دہلی پہنچ چکی ہے۔ کانگریس اور بی جے پی دونوں دو ووٹوں کی ویلڈیٹی کو لے کر الیکشن کمیشن کے سامنے ہیں۔ تین گھنٹے کے اندر دو بار دونوں جماعتوں کا وفد الیکشن کمیشن گیا۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ دو ممبران اسمبلی نے ووٹنگ کے دوران اپنے ووٹ بی جے پی صدر امت شاہ کو دکھائے۔ اس لئے یہ ووٹ مسترد کئے جائیں۔ بی جے پی کا اس پر جواب ہے کہ انتخابات کے بعد اس طرح کی شکایت کرنا غلط ہے۔

کانگریس نے اپنا موقف رکھنے کے لئے راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ آنند شرما اور ترجمان رنديپ سنگھ سرجےوالا کو الیکشن کمیشن بھیجا۔ بی جے پی نے اس کے جواب میں اپنے قدآور لیڈران کی پوری فوج اتار دی۔ اس کی طرف سے مرکزی وزیر ارون جیٹلی، پیوش گوئل، روی شنکر پرساد، دھرمیندر پردھان اور نرملا سیتا رمن الیکشن کمیشن میں گئے۔

گجرات راجیہ سبھا الیکشن کی لڑائی پہنچی دلی، الیکشن کمیشن میں کانگریس۔ بی جے پی آمنے سامنے

گجرات کانگریس کے لیڈر ارجن موڑھواڑیا نے بی جے پی پر الیکشن کمیشن پر دباؤ ڈالنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا، 'ہم نے کہا تھا کہ کانگریس، بی جے پی اور الیکشن افسر کو ساتھ لے کر ووٹنگ کا ویڈیو دیکھنا چاہئے۔ لیکن بی جے پی نے اعتراض کیا۔ ابھی الیکشن کمیشن کے فیصلے کا انتظار ہے۔ ہم نے صبح ساڑھے نو بجے اعتراض کیا تھا لیکن الیکشن کمیشن نے ابھی تک جواب نہیں دیا۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

آنند شرما نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو وہی کرنا چاہئے جو اصول ہے۔ قانون کے دائرے سے باہر کوئی بات نہی ہو سکتی ہے۔ راجیہ سبھا انتخابات کا اصول واضح ہے، ممبر اسمبلی دوسری جماعت کو ووٹ دکھاتا ہے تو وہ انویلڈ سمجھا جاتا ہے۔ ہریانہ میں غلطی سے ووٹ دکھانے پر ووٹ منسوخ کر دیا گیا تھا۔

بی جے پی نے جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس ووٹنگ کے دوران خاموش کیوں رہی۔ پارٹی کے ایم پی بھوپندر یادو نے صحافیوں سے کہا، 'آپ چھ گھنٹے بیٹھے کیوں رہے؟ 6 گھنٹے انتخابات کراتے رہے؟ اب آپ کو یاد آ رہا ہے؟

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز