اجے ماکن پر سوال اٹھاکر استعفی دینے والی برکھا شکلا سنگھ دہلی کانگریس سے چھ سال کے لئے باہر

Apr 21, 2017 12:31 PM IST | Updated on: Apr 21, 2017 12:33 PM IST

نئی دہلی: دہلی خواتین کانگریس کی صدر برکھا شکلا سنگھ کو ٹیم مخالف سرگرمیوں کی وجہ سے پارٹی سے چھ سال کے لئے نکال دیا گیا ہے۔ برکھا شکلا سنگھ نے کل ریاستی صدر اجے ماکن پر بدسلوکی کا الزام لگاتے ہوئے استعفی دے دیا تھا۔ تاہم، انہوں نے کہا تھا کہ وہ پارٹی میں برقرار رہیں گی۔ انہوں نے کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی پر بھی کارکنوں کی بات نہ سننے کے الزام لگائے تھے۔

دہلی کے تینوں کارپوریشنوں کے 23 اپریل کو ہونے والے انتخابات سے پہلے محترمہ سنگھ کے اس بیان کو پارٹی مخالف سرگرمی سمجھتے ہوئے آج چھ سال کے لئے پارٹی سے نکال دیا گیا۔ دہلی کانگریس کی چار رکنی انتظامی کمیٹی کی صبح ہونے والی میٹنگ میں متفقہ طور پر قرارداد منظور کرکے محترمہ سنگھ کو نکالنے کا فیصلہ کیا گیا۔ کمیٹی میں دہلی کے سابق وزیر نریندر ناتھ، سابق ریاستی خواتین صدرآبھا چودھری، محمود ضیا اور سریندر کمار شامل ہیں۔

اجے ماکن پر سوال اٹھاکر استعفی دینے والی برکھا شکلا سنگھ  دہلی کانگریس سے چھ سال کے لئے باہر

دہلی خاتون کمیشن کی سابق صدر محترمہ سنگھ نے کہا کہ کانگریس کے قول اور فعل میں اب بہت فرق ہے۔ ایک سال سے وہ مسٹر گاندھی سے ملنے کی کوشش کر رہی ہیں لیکن آج تک ملاقات کا وقت نہیں ملا۔ کانگریس کو مختلف نظریات کی پارٹی بتاتے ہوئے محترمہ سنگھ نے کہا کہ اس لئے وہ کانگریس نہیں چھوڑیں گی۔ کانگریس قیادت کمزور ہے، اس بات کو پارٹی کا ہر چھوٹا بڑا لیڈر کہتا ہے پر کسی کی سامنے آکر بولنے کی ہمت نہیں ہے۔

غور طلب ہے کہ دہلی کانگریس کے قدآور لیڈر اور شیلا حکومت میں وزیر رہنے والے اروندر سنگھ لولی نے بھی منگل کو کانگریس قیادت پر میونسپل انتخابات میں ٹکٹوں کی فروخت کا الزام لگاتے ہوئے پارٹی سے استعفی دے دیا تھا اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شامل ہو گئے تھے۔

محترمہ سنگھ نے الزام لگایا کہ دہلی میونسپل کارپوریشن انتخابات کیلئے خواتین کو کافی تعداد میں ٹکٹ نہیں دیئے گئے۔ اس کی شکایت مسٹر گاندھی سے بھی کی گئی تھی لیکن ان کی بات نہیں سنی گئی۔ انہوں نے کہا، ’’بہت دکھی ہوکر مجھے یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ مسٹر گاندھی اور مسٹر ماکن کی قیادت میں خواتین کے حقوق اور تحفظ کے مسئلے پر صرف ووٹ بٹورنے کے لئے بات کی جاتی ہے۔ مسٹر ماکن نے نہ صرف میرے ساتھ زیادتی کی بلکہ خواتین کانگریس کی بہت سے دوسرے عہدیداروں کے ساتھ بھی ایسا برتاؤ کیا۔ یہ بات جب مسٹر گاندھی کے نوٹس میں لائی گئی تو انہوں نے نظر انداز کر دی‘‘۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز