ہیگڑے کو آئین اور آئین کی تمہید پر کوئی اعتماد نہیں ، کابینہ سے فوری طور پر ہٹایا جائے : غلام نبی آزاد

Dec 27, 2017 07:46 PM IST | Updated on: Dec 27, 2017 07:46 PM IST

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد نے آئین تبدیل کرنے سے متعلق مرکزی وزیر مملکت اننت کمار ہیگڑے کے بیان کو قابل اعتراض اور قابل مذمت قرار دیتے ہوئے ان سے پارلیمنٹ اور ملک سے معافی مانگنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسا نہیں کرنے پر انہیں کابینہ سے برخاست کردیا جانا چاہئے۔ مسٹر آزاد نے یہاں پارلیمنٹ ہاوس کے احاطے میں نامہ نگاروں سے کہا کہ مسٹر ہیگڑے کے بیان سے واضح ہوگیا ہے کہ ان کا آئین اور آئین کی تمہید پر کوئی اعتماد نہیں ہے اس لئے انہیں کابینہ میں برقرار رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ مسٹر ہیگڑے کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں آکر اور پورے ملک سے معافی مانگنی چاہئے کیوں کہ یہ معاملہ صرف اپوزیشن ہی نہیں بلکہ پورے ملک کی تشویش کا سبب ہے کہ ایک وزیر آئین پر یقین نہیں رکھتا ہے جب کہ وہ خود آئین کا حلف لے کر وزیر بنتا ہے۔ اگر وہ معافی نہیں مانگے تو انہیں کابینہ سے برخاست کردینا چاہئے۔

کانگریس رہنما نے کہا کہ مسٹر ہیگڑے پہلے بھی ممبر پارلیمنٹ کے طور پر اس طرح کے بیان دیتے رہے ہیں جس کی وجہ سے مودی حکومت نے انہیں انعام کے طور پر وزارت کا عہدہ دیا ۔ ایسی امید کی جارہی تھی کہ وزیر بننے کے بعد وہ اس طرح کے بیانات نہیں دیں گے لیکن انہیں اسکی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ اب وزیر اعظم نریندر مودی کو اس بات کا فیصلہ کرنا ہے کہ ایسے شخص کو وزیر بنے رہنا چاہئے یا نہیں۔

ہیگڑے کو آئین اور آئین کی تمہید پر کوئی اعتماد نہیں ، کابینہ سے فوری طور پر ہٹایا جائے : غلام نبی آزاد

کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد ۔ فائل فوٹو

مسٹر آزاد نے کہا کہ مسٹر ہیگڑے نے اپنے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی جے پی اس لئے اقتدار میں آئی ہے کیوں کہ اسے آئین تبدیل کرنا ہے اور جو لوگ سیکولرازم پر اعتماد کرتے ہیں ان کے ماں بات کا پتہ نہیں ہے۔ کانگریس رہنما نے کہا کہ سیکولرزم آئین کا بنیادی سطون ہے اور سب کو اس کا احترام کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس سمیت اپوزیشن نے دونوں ایوانوں میں یہ معاملہ اٹھایا ہے اور اس معاملے کے سلسلے میں راجیہ سبھا کے چےئرمین ایم وینکیا نائیڈو سے ملاقات بھی کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے اس پر کل تک کا وقت مانگا ہے۔ خیال رہے کہ مسٹر ہیگڑے کے استعفی کے مطالبہ پر آج لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں ہنگامہ کی وجہ سے دونوں ایوانوں کی کارروائی متاثر ہوئی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز