پی ایم مودی کو اپنی ہی پارٹی کے لیڈروں پراعتماد نہیں ، کچھ ہی وزراء کے پاس کئی کئی اہم وزارتیں : کانگریس

Aug 27, 2017 03:10 PM IST | Updated on: Aug 27, 2017 03:10 PM IST

نئی دہلی: مرکزی کابینہ میں تبدیلی کی قیاس آرائیوں کے مابین کانگریس نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا اپنی پارٹی کے لیڈروں پر اعتماد نہ ہونے کے سبب کابینہ میں عہدے خالی پڑے ہیں اور نئے وزیر بنانےکی بجائے کچھ ہی وزراء کو کئی کئی اہم وزارتیں سونپی گئی ہیں جس سے حکومت کا کام کاج متاثر ہو رہا ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر اور ترجمان منیش تیواری نے یونائٹیڈ نیوز آف انڈیا (یو این آئی) کے ہیڈکوارٹر میں نامہ نگاروں سے بات چیت میں کہاکہ مودی حکومت کے 38 ماہ کے بعد اب تک کی میعادکار میں 20 ماہ تک کوئی پوری مدت کیلئے وزیر دفاع نہیں رہا جس سے یقینی طور پر قومی سیکورٹی پر اثر پڑا ہے۔ اس کے علاوہ مسٹر مودی نے چند وزراء کو ایک سے زیادہ اہم وزارتیں حوالے کر رکھی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ اس حکومت کی میعاد کار کا نصف سے زیادہ وقت گزر جانے کے باوجود اہم وزارتوں کے لئے الگ الگ وزیر نہ مقرر ہونے کے پیچھے دو اہم اسباب ہیں۔ ایک تو بی جے پی کے پاس حکومت چلانے کیلئے اہل لیڈر نہیں ہیں اور دوسرا مسٹر مودی کو پارٹی کے لیڈروں پر بھروسہ نہیں ہے۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ بی جے پی اور اس کی حکومت کی ترجیحات کیا ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بی جے پی کی قیادت کا گوا جیسی چھوٹی ریاست میں اقتدار حاصل کرنے کیلئے اس وقت کے وزیر دفاع منوہر پاریکر کو وزیر اعلی بنا کر وہاں بھیجنے سے واضح ہے کہ مسٹر مودی کیلئے قومی سیکورٹی سے زیادہ اہم گوا میں پارٹی کی حکومت بنانا تھا۔

پی ایم مودی کو اپنی ہی پارٹی کے لیڈروں پراعتماد نہیں ، کچھ ہی وزراء کے پاس کئی کئی اہم وزارتیں : کانگریس

مسٹر تیواری نے کہاکہ پانچ دنوں کے اندر مسلسل دو ریل حادثوں کے بعد ریلوے وزیر سریش پربھو نے استعفی کی پیش کش تو کردی لیکن مسٹر مودی نے اسے ’ویٹنگ‘ میں ڈال دیا۔ اسی طرح مسٹر ایم وینکیا نائیڈو کے نائب صدر بن جانے کے باوجود ان کی جگہ نیا وزیر بنانے کی بجائے شہری ترقی اور اطلاعات و نشریات کی وزارت کی ذمہ داری دو موجودہ وزراء کو سونپ دی گئیں جن کے پاس پہلے سے ہی اہم وزارتیں ہیں۔

ماحولیات کے سابق وزیر انل مادھو دوے کی موت ہونے پر ان کی وزارت کا اضافی چارج سائنس اور ٹکنالوجی کے وزیر ہرش وردھن کو سونپ دیا گیا۔ مسٹر تیواری نے کہاکہ حقیقت میں موجودہ مرکزی حکومت ڈیڑھ افراد کی حکومت ہے۔ ایک مسٹر مودی اور آدھے مسٹر امت شاہ اس حکومت کو چلا رہے ہیں۔ انہوں نے دعوی کیا کہ توجہ نہ ملنے سے بی جے پی کے بہت سے لیڈر محسوس کر رہے ہیں کہ انہیں نظرانداز کیاجا رہا ہے اور ان میں مایوسی پائی جا رہی ہے لیکن فی الحال کوئی کھل کر نہیں بول رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ آئندہ لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی کی سیٹیں اگر 200 سے کم ہو جاتی ہیں تو مسٹر مودی کا بی جے پی اور قومی جمہوری اتحاد کا لیڈر بن پانا مشکل ہوگا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز