تمل ناڈو کے کسانوں کی حالت زار: وزیر اعظم قرض معافی کے سلسلے میں پہل کریں: نغمہ

Apr 12, 2017 05:36 PM IST | Updated on: Apr 12, 2017 05:36 PM IST

نئی دہلی۔  فلم اداکارہ ،آل انڈیا خواتین کانگریس کی جنرل سکریٹری اور تمل ناڈو اور پڈوچیری کی انچارج محترمہ نغمہ نے وزیر اعظم نریندر مودی پر تمل ناڈو کے کسانوں کی بدحالی اورپریشانیوں کو نظرانداز کرنے کا الزام لگاتے ہوئے آج  کہا کہ مسٹر مودی کسانوں کی بہبود سے متعلق صرف زبانی جمع خرچ سے کام لے رہے ہیں اور زمین پر اس کی کوئی حقیقی شکل نظر نہیں آرہی ہے۔محترمہ نغمہ نے جنترمنتر پر دھرنے پر بیٹھے تمل ناڈو کے کسانوں سے ملنے کے بعد یو این آئی سے خصوصی بات چیت میں کہا کہ پورے ملک میں کسان خشک سالی، ژالہ باری اور دوسرے قدرتی آفات سے پریشان ہیں لیکن موجودہ مرکزی حکومت کارپوریٹ گھرانوں کا قرض تو معاف کر رہی ہے لیکن ملک کا پیٹ بھرنے والے کسانوں کو بالکل نظر انداز کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئے دن کسان مالی پریشانی اور قرض کے بوجھ تلے دبے ہونے کی وجہ سے خودکشی کر رہے ہیں لیکن مرکزی حکومت کسانوں کا کوئی سدھ لینے کو تیار نہیں ہے۔

انہوں نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ کسانوں کی بدحالی اور قدرتی آفات کے شکار کسانوں کے لئے نیتی آیوگ کے ذریعہ ایسی پالیسی وضع کریں جس سے ہر سال سیلاب ، خشک سالی اور قدرتی آفات سے متاثر ہونے والے کسانوں کے نقصان کا ازالہ ہوسکے ۔ محترمہ نغمہ نے کہا کہ تمل ناڈو کے کسان گزشتہ ایک ماہ سے جنتر منتر اپنی مالی پریشانیوں اور قرض معافی کے مطالبے کے سلسلے میں دھرنا دے رہے ہیں۔لیکن حکومت کی طرف سے اب تک کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ ترقی پسند اتحاد کی سابقہ حکومت نے کسانوں کی مالی پریشانیوں کو ختم کرنے کے لئے کسانوں کا تقریباً 72ہزار کروڑ روپے کا قرض معاف کردیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے رہنما اور کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی بھی ملک اور خصوصاً تمل ناڈو کے کسانوں کے مسائل کو بار بار اٹھا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمل ناڈو کے کسانوں نے مرکزی حکومت کی بے حسی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے گزشتہ روز وزیر اعظم نریندر مودی کے دفتر کے باہر برہنہ ہوکر مظاہرہ کیا تھا کہ شاید ہمارے وزیر اعظم کو کسانوں کا کچھ خیال آجائے۔

تمل ناڈو کے کسانوں کی حالت زار: وزیر اعظم قرض معافی کے سلسلے میں پہل کریں: نغمہ

محترمہ نغمہ نے کہا کہ تمل ناڈو کے کسان تقریباً ایک ماہ سے دہلی کے جنتر منتر پر صرف دھرنا ہی نہیں دے رہے ہیں بلکہ وہ اپنے ان کسانوں کے کنکال بھی ساتھ لائے ہیں جو اب نہیں رہے، وہ اپنا نصف سر منڈوا چکے ہیں اور اس دوران چوہے کھا چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان میں سے بہت سے بھوک ہڑتال پر بھی بیٹھے ہیں۔ یہ سب صرف اس وجہ کر رہے ہیں کہ تاکہ یہ ایک بار وزیر اعظم سے مل کر قرض معافی کے لئے راضی کرسکیں ۔ محترمہ نغمہ نے کہا کہ افسوس کہ وزیر اعظم کو ان سے ملنے کا وقت نہیں ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز