اب کانگریس لیڈر پروفیسر سیف الدین سوز نے کہا : مساجد سے دی جانے والی اذان کی آواز مقرر کرنے کی ضرورت

Apr 23, 2017 07:08 PM IST | Updated on: Apr 23, 2017 07:08 PM IST

سری نگر: سینئر کانگریس لیڈر اور سابق مرکزی وزیر پروفیسر سیف الدین سوز نے مذہبی امور سے متعلق پاکستانی وزیر کے اذان سے متعلق فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب وہاں ایک مسجد سے دی جانے والی اذان کی آواز اُسی محلے تک محدود رہے گی جہاں مسجد قائم ہے اور دوسرے محلوں تک نہیں پہنچ پائے گی۔ پروفیسر سوز کا یہ بیان اُس وقت سامنے آیا ہے جب مشہور گلوکار سونو نگم کے بیان کہ ’اذان کی آواز سے اُن کی نیند خراب ہوجاتی ہے‘ سے ایک بڑا تنازعہ کھڑا ہوا ہے۔

سابق وزیر نے اتوار کو یہاں جاری اپنے ایک بیان میں کہا ’مذہبی امور سے متعلق پاکستان کی وزارت کی ستائش کی جانی چاہیے جس نے پاکستان بھر میں اذان کی آواز کو ضرورت کے مطابق مقرر کرنے کی پہل کی ہے اور اب اذان ایک محلے کی مسجد سے اُسی محلے تک محدود رہے گی اوردوسرے محلوں تک نہیں پہنچ پائے گی۔

اب کانگریس لیڈر پروفیسر سیف الدین سوز نے کہا : مساجد سے دی جانے والی اذان کی آواز مقرر کرنے کی ضرورت

اس اقدام سے یہ صورت حال بھی درست ہو گئی ہے کہ ہر محلہ کی مسجد سے وقت مقررہ پر اذان ہوگی اور ایسا نہیں ہوگا کہ ایک مسجد سے ایک وقت پر اور دوسرے محلے سے دوسرے وقت پر اذان ہو جس سے دوسرے محلے میں لوگ کبیدہ خاطر ہوتے تھے گویا اذان کے تقدس کا پورا احترام کیا گیا ہے اور اب ہر محلے کی اذان اسی علاقے تک محدود رہتی ہے‘۔ پروفیسر سوز کا کہنا ہے کہ پاکستان بھر میں لاؤڈ سپیکروں کی آوازوں کو بھی کنٹرول کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے ’جو لوگ حال کے مہینوں میں پاکستان گئے ہیں انہوں نے یہ مشاہدہ کیا ہے کہ پاکستان بھر میں لاؤڈ سپیکر کی آواز کو کنٹرول کیا گیا ہے اور اب اپنے محلے تک اذان سنی جائے گی۔یہ صور ت حال اسلام آباد ، لاہور، کراچی، ملتان اور پاکستان کے دوسرے شہروں میں دیکھی جا سکتی ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیول سوسائٹی نے متعلقہ وزارت کے اس اقدام پر خوشی کا اظہار کیا ہے خصوصاً طلباء و طالبات نے اس کا خیر مقدم کیا ہے۔ پروفیسر سوز نے کہا ’کشمیر میں اس سلسلے میں اوقاف اسلامیہ کافی مدد دے سکتا ہے۔ وہ اذان کی آواز کو مقرر کر سکتا ہے اور خاص مذہبی مقامات کے لئے ہی لاؤڈ اسپیکر کا استعمال مقرر کر سکتی ہے۔ مثلاً جامع مسجد، درگاہ حضرت بل ، درگاہ حضرت مخدوم صاحب، امام باڑہ اور چرار شریف اور دیگر اہم مقامات پر ہی اذان کے لئے لاؤڈ اسپیکر استعمال کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔مجھے لگتا ہے کہ اس اصلاح کو عوامی حلقوں میں کافی پذیرائی ہوگی‘۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز