بھیڑ ذریعہ قتل کیس میں عمر قید کی سزا کا قانون بنانے اور متاثرہ علاقہ کے ایس ایچ او کی فوری معطلی کا مطالبہ

Jun 05, 2017 08:55 PM IST | Updated on: Jun 05, 2017 08:56 PM IST

نئی دہلی : گئو رکشکوں اور ان سے وابستہ تنظیموں پر پابندی کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے والے کانگریسی رہنماتحسین پوناوالا نے آج مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بھیڑ کے ذریعہ قتل کے خلاف عمر قید کی حد تک سخت قانونسازی کی جائے۔ یہاں ایک پریس کانفرنس میں ایک سے زیادہ سیاسی ، سماجی ، معاشی اور صحافتی نمائندوں کی موجودگی میں اس جرم کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف غیرضمانتی وارنٹ جاری کرنے اور تیزی سے مقدمات فیصل کرنے کے مطالبے کے ساتھ یہ تجویز بھی رکھی گئی کہ متاثرہ علاقے کے ایس ایچ او کو فوری طور پر معطل کیا جائے اور اس کی انکوائری عدالتی کمیشن اور مجسٹریٹ سے کرائی جائے۔

مقررین نے کہا کہ حالات کی فوری سخت گرفت نہ کی گئی تو موب لنچنگ کے خلاف قومی تحریک چلائی جائے گی۔ اس سلسلے میں قانون کا مسودہ تیار کرنے کیلئے سپریم کورٹ کے سینئر وکیل سنجے ہیگڑے، پروفیسر اپوروانند، پروفیسر نویدتا، وکیل ربیکا جون اور دیگر ذمہ داراں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی او کہا گیا کہ مرتب کردہ مسودہ قانون وزیر اعظم نریندر مودی کو پیش کیا جائے گا۔ مسٹر پوناوالا نے کہاکہ اگراس معاملے میں سخت قانون سازی نہیں کی گئی تو مویشی تاجروں اور مویشی پالنے والے کسانوں کے ساتھ و زیر اعظم کی رہائش گاہ پر دھرنا دیا جائے گا۔

بھیڑ ذریعہ قتل کیس میں عمر قید کی سزا کا قانون بنانے اور متاثرہ علاقہ کے ایس ایچ او کی فوری معطلی کا مطالبہ

اس موقع پر مشہور صحافی انل چمڑیانے عام آدمی کے ’’ ملٹریزائیشن‘‘ کو ملک جمہوریت اور آئین کے لئے بھی خطرناک بتاتے ہوئے اسکولوں میں روزانہ آئین کا پہلا صفحہ بچوں کو پڑھانے پر زور دیا۔

جواہر لال نہرو طلبہ یونین کے سابق صدر کنہیا کمار نےقومی سلامتی قانون کی طرح انسانی تحفظ کے موثر قانون کی ضرورت اجاگر کی اور خبر دار کیا کہ اس صورت حال کو فوراً بدلا جائے جس میں ’’ لوگ بولنے سے ڈرتے ہیں‘‘ ورنہ قانون و انتظام اور آئین کی عدم حکمران میں کسی کے ساتھ بھی کچھ ہو سکتا ہے ۔

جواہر لال نہرو طلبہ یونین کی سابق نائب صدر لیڈر شہلا راشد نے بھی بھیڑ کے ہاتھوں بے قصوروں کے خلاف زیادتی روکنے پر زور دیا۔ اوناتحریک سے وابستہ جگنیش میوانی نے غیر انسانی واقعات کی مذمت کرتے ہوئے ان کے خلاف بیداری کو قت کی اہم ضرورت قرار دیا۔ اس پریس کانفرنس سے خطاب کرنے والوں میں مشہور صحافی کلدیپ نیر، اداکارہ سورا بھاسکر، موہت پانڈے، ندیم خاں، الہ آباد کی رچا اور دیگر افراد شامل تھے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز