کانگریس کی الیکشن کمیشن سے اپیل، گجرات میں دل بدلی کرانے کی جانچ کی جائے

Jul 29, 2017 08:17 PM IST | Updated on: Jul 29, 2017 08:17 PM IST

نئی دہلی۔  کانگریس نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی مرکز اور گجرات حکومت پر راجیہ سبھا انتخابات میں جیت یقینی بنانے کے لئے دولت (رقم) اور قوت کے ذریعہ سے ممبران اسمبلی کا دل (پارٹی) تبدیل کرنے کا الزام لگاتے ہوئے الیکشن کمیشن سے اعلی و بااختیار کمیٹی تشکیل دے کراس کی جانچ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کانگریس کے ایک وفد نے آج یہاں الیکشن کمیشن سے ملاقات کرکے شکایت کی کہ بی جے پی گجرات میں ہر حالت میں راجیہ سبھا الیکشن جیتنا چاہتی ہے اور اس کے لئے کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں کے ممبران اسمبلی کو کثیر رقم دے کر اور خوف زدہ کرکے اوردھمكا كر اپنے حق میں کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کے لئے انتظامیہ کا بھی غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ وفد نے اس سلسلے میں کمیشن کو ایک میمورنڈم بھی سونپا ہے ۔

کمیشن سے ملاقات کے بعد کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبي آزاد نے صحافیوں کو بتایا کہ وہاں ممبران اسمبلی کو اغوا کیا جا رہا ہے اور اغوا ممبران اسمبلی کے ساتھ ہی ان کے اہل خانہ کو بھی دھمکایا جا رہا ہے۔ انہوں نے اسے جمہوریت کا قتل قرار دیا اور کہا کہ ہندوستانی جمہوریت میں پہلی بار ایسا دیکھنے کو مل رہا ہے۔ انہوں نے اسے سنگین معاملہ بتایا اور کہا کہ پارٹی نے کمیشن سے اس کی آزادانہ اور منصفانہ اعلی جانچ اعلی و بااختیار کمیٹی تشکیل دے کر  کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ ممبران اسمبلی کو اغوا کرانے میں ریاستی حکومت کا بھی کردار ہے اور اس میں ریاست کے سرکاری افسران بھی شامل ہیں۔ انہوں نے اغوا میں شامل افسر کو نکالنے اور دیگر قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی بھی کمیشن سے مطالبہ کیا۔

کانگریس کی الیکشن کمیشن سے اپیل، گجرات میں دل بدلی کرانے کی جانچ کی جائے

وفد میں شامل کانگریس کے سینئر لیڈر آنند شرما نے کہا کہ ممبران اسمبلی کو ریاست سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے اس کے لئے گجرات حکومت کی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ریاستی حکومت اور حکمراں جماعت پر سیاہ دھبہ ہے۔ مسٹر شرما نے اسے جمہوریت پر حملہ بتایا اور الزام لگایا کہ یہ جرم ریاستی حکومت کے اشارہ پر کیا جا رہا ہے۔

مسٹر شرما نے کہا کہ گجرات میں بی جے پی پیسے کا کھیل کھیل رہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب پارٹی کے پاس وہاں کافی ممبر ان سمبلی نہیں ہیں تو پھر وہ راجیہ سبھا میں تیسرے امیدوار سے کس طرح نامزدگی کروا سکتی ہے۔ تیسرے رکن اسمبلی بھی ان کا اپنا نہیں ہے بلکہ باہر سے طاقت و پیسے کی بنیاد پر خریدا گیا ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا کہ یہ تشویش ناک صورت حال ہے کہ پیسے کے بل پر ممبران اسمبلی کو

خریدا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دل بدل کے خلاف سخت قانون ہے اور ان کی پارٹی اس معاملے میں قانون کا سہارا لینے پر بھیغور کرے گی ۔ وفد میں مسٹر آزاد، مسٹر شرما اور مسٹر سنگھوی کے علاوہ سینئر لیڈر منیش تیواری اور مسٹر وویک تنكھا شامل تھے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز