چیف سکریٹری کے چیف جسٹس کے گھر جانے پر کانگریس نے اٹھایا سوال

کانگریس کے ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے وزیر اعظم کے چیف سکریٹری کے آج چیف جسٹس کی رہائش گا پانچ کرشنا مینن مارگ جانے کے چند گھنٹے بعد ہی کہا کہ وزیر اعظم کو ملک کے چیف جسٹس کی رہائش گاہ پر اپنا خصوصی سفیر بھیجنے کا سبب بتانا چاہئے۔

Jan 13, 2018 07:09 PM IST | Updated on: Jan 13, 2018 07:09 PM IST

نئی دہلی۔ کانگریس نے سپریم کورٹ کے چار سینئر ججوں کے پریس کانفرنس کرکے ملک کے چیف جسٹس (سی جے آئی) دیپک مشرا کے کام کاج کے طریقہ کارکو کٹہرے میں کھڑا کرنے کے ایک دن بعد وزیر اعظم کے چیف سکریٹری نپیندر مشرا کے چیف جسٹس سے ملاقات کے لئے ان کے گھر پر جانے پر سوال اٹھایا ہے۔ کانگریس کے ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے وزیر اعظم کے چیف سکریٹری کے آج چیف جسٹس کی رہائش گا پانچ کرشنا مینن مارگ جانے کے چند گھنٹے بعد ہی کہا کہ وزیر اعظم کو ملک کے چیف جسٹس کی رہائش گاہ پر اپنا خصوصی سفیر بھیجنے کا سبب بتانا چاہئے۔

انہوں نے ٹوئٹ کیا’’ وزیر اعظم کے چیف سکریٹری نرپیندر مشرا چیف جسٹس کی رہائش گاہ پانچ کرشنا مینن مارگ گئے ہیں۔ وزیر اعظم کو اپنے خصوصی سفیر کے گھر بھیجنے کا سبب بتانا چاہئے۔‘‘ اس سے قبل مسٹر مشرا نے کہا کہ وہ جسٹس مشرا کو نئے سال کی مبارک باد دینے اور نئی رہائش گاہ پر آنے کے لئے دعوت دینے گئے تھے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ وہ چیف جسٹس سے نہیں مل سکے کیوں کہ وہ(چیف جسٹس) پوجا کررہے تھے۔

چیف سکریٹری کے چیف جسٹس کے گھر جانے پر کانگریس نے اٹھایا سوال

کانگریس کے ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا: فائل فوٹو۔

Loading...

کانگریس صدر راہل گاندھی نے جمعہ کو ہی سہراب الدین تصادم معاملے کے ٹرائل جج بی ایچ لویا کی موت کے معاملے کی سپریم کورٹ میں اعلی سطحی انکوائری کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔ پریس کانفرنس میں اپنی بات رکھنے والے چاروں ججوں نے بھی اس معاملے کو چیف جسٹس کے ساتھ اختلافات کا ایک اہم سبب قرار دیا تھا۔ دریں اثنا بھارتیہ جنتا پارٹی نے یہ کہتے ہوئے کانگریس کی نکتہ چینی کی ہے کہ اپوزیشن اس معاملے کو سیاسی رنگ دے رہا ہے ۔ پارٹی کے ترجمان سمبت پاترا نے کہا کہ یہ سپریم کورٹ کا داخلی معاملہ ہے اور اس پر سیاست نہیں کی جانی چاہئے۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز