مالیگاوں دھماکہ معاملہ: عدالتی ضمانت سے کسی کی بے گناہی ثابت نہيں ہوتی: کانگریس

نئی دہلی۔ کانگریس نے مالیگاؤں دھماکہ کیس کے کلیدی ملزم لیفٹیننٹ کرنل سری کانت پروہت کو آج ضمانت ملنے پر کہا کہ اس سے کسی ملزم کا گناہ یا بے گناہی ثابت نہیں ہوتی۔

Aug 21, 2017 07:39 PM IST | Updated on: Aug 21, 2017 07:39 PM IST

نئی دہلی۔ کانگریس نے مالیگاؤں دھماکہ کیس کے کلیدی ملزم لیفٹیننٹ کرنل سری کانت پروہت کو آج ضمانت ملنے پر کہا کہ اس سے کسی ملزم کا گناہ یا بے گناہی ثابت نہیں ہوتی۔ تاہم، اس نے قومی جانچ ایجنسی (این آئی اے) کے سربراہ کے عہدے پر کسی کی تقرری نہیں ہونے پر حیرانی ظاہر کی۔ پارٹی کے ترجمان منیش تیواری نے یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر پر معمول کی پریس بریفنگ میں کرنل پروہت کی ضمانت سے متعلق سوال پر کہا کہ ضمانت دینا عدالت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ بہت سے معاملات میں عدالت فوری طور پر ملزم کو ضمانت دے دیتی ہے اور دیگر متعدد مقدمات میں وہ اپنی صوابدید کا استعمال کر کے ضمانت تاخیر سے دیتی ہے۔ ضمانت کسی بھی ملزم کے گناہ یا بے گناہی کو ثابت نہیں کرتی ہے۔  انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ زیریں عدالت میں زیر غور ہے اور ابھی اس میں چارج شیٹ بھی داخل نہیں ہوئي ہے۔ اگر کوئی سوچتا ہے کہ اسے انصاف نہیں مل رہا ہے، تو وہ ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ میں جا سکتا ہے۔

سال 2008 میں مالیگاؤں دھماکے کیس کی تحقیقات کر رہی این آئی اے کے کردار سے متعلق سوال پر کانگریس کے ترجمان نے کہا کہ وہ اس پر کوئی قیاس آرائی نہیں کر سکتے۔مسٹر منیش تیواری نے جین حوالہ کیس میں سپریم کورٹ کی ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے واضح طورپر کہا تھا کہ جانچ ایجنسیوں کے سربراہان کی مدت کار طے ہونی چاہئے تاکہ وہ بغیر کسی دباؤ کے آزادانہ طور پر تحقیقات کر سکیں۔

مالیگاوں دھماکہ معاملہ: عدالتی ضمانت سے کسی کی بے گناہی ثابت نہيں ہوتی: کانگریس

کانگریس لیڈر منیش تیواری: فائل فوٹو

مسٹر تیواری نے اس بات پر حیرانی ظاہر کی کہ گزشتہ تین برسوں میں مودی حکومت کو این آئی اے کے سربراہ کے عہدے کے لئے ایک بھی قابل افسر نہیں ملا؟ حکومت پر سپریم کورٹ کی ہدایات کی خلاف ورزی کرنے کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس پر جواب دینا چاہئے۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز