شنگلو کمیٹی رپورٹ پر کانگریس کا سی بی آئی سے جانچ کرانے اور کیجریوال سے استعفی کا مطالبہ

نئی دہلی۔ مجرمانہ ہتک عزت کیس میں وکیل کی فیس پر تنازعات میں گھرے وزیر اعلی اروند کیجریوال کی دقتیں دہلی کے تینوں کارپوریشنوں کے انتخابات سے قبل سامنے آئی ہیں۔

Apr 06, 2017 04:15 PM IST | Updated on: Apr 06, 2017 04:16 PM IST

نئی دہلی۔  مجرمانہ ہتک عزت کیس میں وکیل کی فیس پر تنازعات میں گھرے وزیر اعلی اروند کیجریوال کی دقتیں دہلی کے تینوں کارپوریشنوں کے انتخابات سے قبل سامنے آئی ہیں۔ شنگلو کمیٹی کی رپورٹ میں کرپشن سے منسلک سنگین الزامات سے کیجریوال کی مشکلیں اور بڑھ سکتی ہیں۔ ریاستی کانگریس صدر اجے ماکن نے رپورٹ کی مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) سے جانچ کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے مسٹر کیجریوال سے استعفی کا مطالبہ کیا ہے۔ مسٹر ماکن نے کہا کہ مسٹر کیجریوال حکومت کے کرپشن کے خلاف دہلی کانگریس کل یوم سیاہ منائےگي اور تمام وارڈوں میں پارٹی کے کارکن احتجاجی مظاہرہ کریں گے۔

سابق لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ نے دہلی حکومت کے انتظامی فیصلوں میں آئین اور عمل سے منسلک قوانین کی خلاف ورزی کی تحقیقات کے لیے سابق کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) وی کے شنگلو کی صدارت میں تین رکنی کمیٹی قائم کی تھي ۔ مسٹر ماکن نے حق اطلاعات کے تحت اس رپورٹ کو حاصل کیا ہے اور 101 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں کمیٹی نے مسٹر کیجریوال کی قیادت والی دہلی حکومت پر اقتدار کا بیجا استعمال کرتے ہوئے کئی فیصلوں پر سوال اٹھائے ہیں۔ مسٹر جنگ نے گزشتہ سال ستمبر میں کمیٹی تشکیل دی تھی اور کل 440 فیصلوں سے منسلک فائلوں کو جانچ کے لئے سونپا تھا۔ ان میں سے 36 فائلیں زیر التوا ہونے کی وجہ سے واپس کر دی گئی تھیں جبکہ 404 تفتیش کے دائرے میں تھیں۔ کمیٹی کے دیگر ارکان میں سابق چیف الیکشن کمشنر این گوپال سوامی اور سابق چیف ویجلنس کمشنر پردیپ کمار شامل ہیں۔ کمیٹی کی تشکیل گزشتہ سال 30 اگست کو کی گئی تھی۔

شنگلو کمیٹی رپورٹ پر کانگریس کا سی بی آئی سے جانچ کرانے اور کیجریوال سے استعفی کا مطالبہ

اجے ماکن: فائل فوٹو

مسٹر ماکن نے آج پریس کانفرنس میں رپورٹ کا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ اس میں متعدد سنگین الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ کیجریوال حکومت پر رپورٹ میں زمین الاٹمنٹ کرانے، ملازمتوں میں کنبہ پروری اور سرکاری اجازت کے بغیر غیر ملکی دورے پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے وزیر کی رہائش گاہ کو غلط طریقے سے پارٹی آفس کے طور پر مختص کر دیا۔ حکومت کے پاس زمین کا حق نہیں ہے تو اس کے ممبر اسمبلی کو کس قانون کے تحت زمین الاٹ کیا گیا۔ وزیر صحت ستیندر جین کی بیٹی کو وزارت صحت میں عہدے دینے کے علاوہ نكنج اگروال کی تقرری غلط طریقے سے کی گئی۔ وزیر کے ساتھ 42 لوگوں کو غلط طریقے سے کام دیا گیا۔ 18 ماہ کے دوران 24 غیر ملکی دورے کئے گئے اور ان کی اجازت نہیں لی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی نے حکومت سے کمیٹی کی رپورٹ کو عام کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کمیٹی نے حکومت کے انتظامی عمل سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کی تحقیقات کی اور بڑی تعداد میں قوانین کی دھجیاں اڑايے جانے کا انکشاف کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکام کے محتاط کرنے کے باوجود ان کی نہیں سنی گئی۔ تحقیقات میں حکام کے مشورے کو مسٹر کیجریوال کی حکومت نے نظر انداز کیا۔ دہلی کے انتظامی سربراہ ہونے کے باوجود لیفٹیننٹ گورنر سے یا تو پہلے اجازت نہیں لی گئی یا فیصلہ لینے کے بعد منظوری لی گئی اور حکومت نے اپنے دائرہ اختیار سے باہر جاکر فیصلے کئے۔

رپورٹ میں وزیر صحت ستیندر جین کی بیٹی کو لے کر کئے گئے کئی فیصلوں پر سوال اٹھایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت کے سرکاری حقوق کا غلط استعمال کرنے، افسران کی تعیناتی، تبادلے اور پارٹی کے رہنماؤں سے منسلک قریبی لوگوں کو مختلف عہدوں پر موٹی تنخواہ پر مقرر کئے جانے کا ذکر ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دہلی حکومت کے صحت مشن میں مسٹر جین نے اپنی بیٹی کو "مشن ڈائریکٹر" مقرر کیا۔ دہلی خواتین کمیشن کی صدر سواتی ماليوال کو رہائش کےالاٹمنٹ میں بھی قوانین کی دھجیاں اڑايي گئیں۔ "کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں مسٹر کیجریوال کی حکومت پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیصلے لینے میں حکومت نے حقوق کی کھلم-کھلا خلاف ورزی کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دہلی حکومت کی اینٹی کرپشن شاخ میں افسران کی تقرری کرنے میں بھی قوانین کی خلاف ورزی کی گئی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز