ٹائمس ہائر ایجوکیشن کے ذریعہ اے ایم یو کو نمبرون بتانے پراساتذہ دو خیموں میں منقسم

Sep 16, 2017 07:45 PM IST | Updated on: Sep 16, 2017 07:45 PM IST

علی گڑھ ۔ کسی بھی ادارے کے لئے ملک میں نمبر ون پوزیشن حاصل کرنا یقیناً قابل فخر ہوتا ہے اور وہ ادارہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ہو تو پھر اس سے وابستہ شخصیات کا سر فخر سے اونچا ہوجانا یقینی ہے ۔ لیکن علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں جاری جشن پر اس وقت سوالیہ نشان لگنے شروع ہوگئے جب مسلم یونیورسٹی ٹیچرس کے ایک گروپ نے ہی اس پراعتراضات کرنے شروع کر دیئے تو ٹیچرس دو خیموں میں تقسیم ہوگئے ہیں۔

مسلم یونیورسٹی ٹیچرس ایسوسی ایشن کے سابق سکریٹری مصطفی زیدی نے ٹائمس ہائیر ایجوکیشن کے ذریعہ جاری کی گئی دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں مسلم یونیورسٹی کو انڈیا میں نمبر ایک کہے جانے پر سوال اُٹھایا ہے ۔ انکا کہنا ہے کہ ٹیچنگ، ریسرچ ، سائٹیشن، انڈسٹری انٹرفیتھ اور انٹرنیشنل آؤٹ لک کی بنیاد پررینکنگ دی جاتی ہے اور اے ایم یو ان سبھی جگہوں پر کہیں بھی نمبر ایک نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ بلاوجہ کی جھوٹی تشہیر کرکے ہم خود کو سمجھا تو سکتے ہیں لیکن یہ صحیح نہیں ہے ۔ ہم بھی چاہتے ہیں کہ ادارہ ترقی کرے لیکن  وہ  صحیح سمت میں ہو ۔ادھر سوشل میڈیا پر اے ایم یو کی رینکنگ پرادارے کے اساتذہ کے ذریعہ پیش کئے جا رہے اعتراضات پر مسلم یونیورسٹی کے سینئر اساتذہ کے نمائندہ گروپ نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے اور ساتھ ہی مسلم یونیورسٹی کو رینکنگ میں نمایاں مقام ملنے پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ یونیورسٹی برادری خصوصاً اساتذہ کی سخت محنت کا نتیجہ ہے۔ اس کے لئے مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور مبارکباد کے مستحق ہیں ۔

ٹائمس ہائر ایجوکیشن کے ذریعہ اے ایم یو کو نمبرون بتانے پراساتذہ دو خیموں میں منقسم

علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی: فائل فوٹو۔

مسلم یونیورسٹی کے سینئراستاد اور ایگزکیٹو کونسل کے رکن پروفیسر حافظ محمد الیاس خان اور اموٹا کے سابق سکریٹری ڈاکٹر محمد شاہد نے مشترکہ پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے یونیورسٹی کے کچھ اساتذہ کے ذریعہ دیئے گئے بیان پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انکے اس عمل سے بہی خواہانِ یونیورسٹی کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔کانفرنس میں اساتذہ نے وائس چانسلر مسلم یونیورسٹی پروفیسر طارق منصور سے درخواست کی کہ وہ ایسے عناصر سے جواب طلب کریں اور ان پر پابندی لگائیں جو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے مفاد کے خلاف کام کررہے ہیں اور اسکی شبیہ کو نقصان پہنچانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز