جامعہ ملیہ ، جامعہ ہمدرد ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور کیلیفورنیا یونیورسٹی کا ایک دوسرے سےتعاون پر اتفاق

Aug 18, 2017 08:58 PM IST | Updated on: Aug 18, 2017 08:58 PM IST

نئی دہلی: جامعہ ملیہ اسلامیہ، امریکہ کی یونیورسٹی آف کیلی فورنیا، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ہمدرد نے علم و تحقیق سمیت مختلف میدانوں میں باہمی تعاون اور اپنی ایجادات و اختراعات کے میدان میں مشترکہ تبادلہ کے لئے آپس میں تعاون پر اتفاق کیا ہے۔ یہ بات جامعہ کی میڈیا کوآرڈی نیٹر پروفیسرصائمہ سعید کی جاری کردہ ریلیز میں کہی ہے۔ ریلز کے مطابق جامعہ ملیہ اسلامیہ کی چانسلر اور منی پور کی گورنر نجمہ ہیپت اللہ کی پہل اور صدارت میں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں کل شام اس بارے میں ہونے والی ایک اہم میٹنگ میں ان چاروں یونیورسٹیوں کے سربراہان کے درمیان بات چیت کے بعد اس بارے میں آگے بڑھنے اور لائحہ عمل متعین کرنے کے لئے غور و خوض کیا ۔

چانسلر نجمہ ہیپت اللہ نے کہا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کو اے گریڈ یونیورسٹی بنانے کا ان کا خواب ہے اور یہ پہل اس میں مددگار ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ کے شعبہ ابلاغ و مواصلات عامہ اور انجینئرنگ کے شعبوں کو ان کی عمدہ کارکردگی اور خدمات کے لئے معروف ہے۔ اس کے دیگر کئی شعبہ جات بھی بہترین کام کر رہے ہیں اور اب ان چاروں یونیورسٹیوں کے درمیان باہمی تعاون سے ان سب کا معیار بلند ہوگا۔

جامعہ ملیہ ، جامعہ ہمدرد ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور کیلیفورنیا یونیورسٹی کا ایک دوسرے سےتعاون پر اتفاق

چانسلر نجمہ ہیپت اللہ نے کہا،یہ ہمارے لئے خوش قسمتی کا لمحہ ہے کہ چار یونیورسٹیوں کے سربراہان ایک اہم اور باہمی تعاون پر تعلیم کی سطح کو بلند کرنے کی کوشش کے لئے آج متحد ہوئے ہیں۔ مشترکہ تعاون کے خیال کا خیر مقدم کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جامعہ ہمدرد نے یونانی میڈیسن میں بہترین کام کیا ہے اور بہت ایجاد کئے ہی، ہم بھی ان کی ان کوششوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ نجمہ ہیپت اللہ نے کہا کہ سبھی چار یونیورسٹیوں کے ساتھ مل کر اپنے وسائل کو ایک دوسرے کے ساتھ شریک کریں۔ ان کے بہترین ڈپارٹمنٹ کا تعین کریں، جس میں وہ سب سے بہتر کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، 3۔4 ماہ میں مشترکہ سیمیناربھی کئے جا سکتے ہیں۔

جامعہ کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد نے کہا کہ وسائل کی کمی کے پیش نظر آج یونیورسٹیوں کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے تا کہ تعلیم، خاص طور پر تحقیق کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ آج سائنس اور تکنیکی تعلیم کو فروغ دینے اور نوجوان نسل کے اندر تخلیقی اور اختراعی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے لئے سنجیدگی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

مسٹر طلعت نے تجویز پیش کی کہ یہ چار وں یونیورسٹیاں ایک دوسرے کے ساتھ کیسے بہتر انداز میں کام کرسکیں، اس بارے میں سوچا جا سکتا ہے ،انھوں نے انٹیلکچول پراپرٹي رائٹس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ بھی ایک اہم میدان ہے جس پر کام کیا جا سکتا ہے انھوں نے کم خرچ بالا نشیں کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے کس طرح چاروں ادارے اپنی خدمات دیں اس پرغور کرنے کی بات کہی۔ پروفیسر طلعت احمد نے کہا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کا ایم سی آر سی آج ملک میں اولین درجہ بندی کا ادارہ ہے۔ اس کے علاوہ، جامعہ کے انجینئرنگ اور الیکٹرانک محکموں میں بھی بہت اچھا کام ہوا ہے، اسی طرح جامعہ نے شمسی توانائی کے شعبے میں بھی اچھا کام ہے۔

انہوں نے کہا کہ وسائل کی کمی کی وجہ سے کئی اہم کام نہیں ہو رہے ہیں لیکن اس بارے میں ان کی کوششیں جاری ہیں۔ آج، ماحولیاتی تبدیلی اور تباہ کن آفتوں سے نمٹنے کے لئے سنجیدہ تحقیقات کی ضرورت ہے۔ ان علاقوں میں تحقیقات کرکے ایک ساتھ وسائل پیدا کرنے اور مسائل پر قابو پا نے کے لئے بھی ترجیحی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔

یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے سابق ایگزی کیٹیو وائس چانسلراور پرووسٹ پال جوزیف ڈو نیر نے کہا، ہندوستان کی ان تینوں یونیورسٹیوں میں بہت کچھ خاص ہے۔ ماس کمیونیکیشن کے لئے جامعہ کاایم سی آر سی، فارمیسی کے لئے جامعہ ہمدرد تو انجینئرنگ کے لئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی معروف ہے اور ہم سب مختلف میدانوں میں ایک دوسرے کا تعاون کر سکتے ہیں ۔

پروفیسر ڈویر نے چار وں یونیورسٹیوں کے مختلف شعبوں کے درمیان مشترکہ کورس شروع کرنے اور باقاعدہ سیمیناروں کو منظم کرنے کا بھی مشورہ دیا۔انہوں نے کہا،ہم آپ سے سیکھ چکے ہیں۔ ہم سب ہماری طاقت اور کمزوریوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ رکھیں اور تجربات کو نئے طول و عرض میں تقسیم کریں۔ طارق منصور،علی گڈھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے کہا کہ ان کی یونیورسٹی مکمل طور پر رہائشی ہے۔ حال ہی میں اس یونیورسٹی نے انٹرنیشنل لر ننگ سینٹر کھول دیا ہے۔ اس کی انجنیئرنگ ڈیپارٹمنٹ عالمی سطح پر ہے۔

جامعہ ہمدرد یونیورسٹی کے وائس چانسلر سید احتشام حسنین نے بتایا کہ اس کا فارمیسی شعبہ ہندوستان میں سب سے بہتر شعبوں میں سے ایک ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونانی فارمیسی میں اس نے بہت سے اہم ایجادات کیے ہیں۔ چاروں یونیورسٹیوں کا ایک دوسرے کے تعاون سے، ان میں مزید بہتری کے امکانات ہیں۔ اس موقع پر چاروں یونیورسٹیوں کے سربراہان کے علاوہ جامعہ کے رجسٹرار اور دیگر ذمہ دارن بھی موجود تھے۔ اس کے علاوہ اجلاس میں معروف عالم دین مولانا محمد ولی رحمانی اور کیلی فورنیا یونیورسٹی سٹیٹجک پراجیکٹ مینیجمنٹ کے ڈائریکٹر احمد ولی فیصل رحمانی بھی موجود تھے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز