مدھیہ پردیش کی باندھو گڑھ سیٹ پھر بی جے پی کی جھولی میں، آسام کی دھیماجی سیٹ بھی جیتی

Apr 13, 2017 11:03 AM IST | Updated on: Apr 13, 2017 01:41 PM IST

امریا۔  مدھیہ پردیش کے ضلع امریا کی باندھو گڑھ سیٹ پر ہوئے اسمبلی ضمنی الیکشن کے بعد یہ سیٹ ایک بار پھر بھارتیہ جنتاپارٹی (بی جے پی) کےہی کھاتے میں آئی ہے۔ باندھو گڑھ (اججا) سیٹ سے بی جے پی کے امیدوار شیو نارائن سنگھ نے تقریباً 25 ہزار ووٹوں سے زیادہ سے کانگریس کی ساوتری سنگھ کو شکست دی ہے۔ مسٹر سنگھ ووٹوں کی گنتی کے آغاز سے ہی محترمہ سنگھ سے آگے چل رہے تھے۔

دوسری جانب بھنڈ ضلع کی اٹیر سیٹ پر بی جے پی کے اروند بھدوریا اور کانگریس کے ہیمنت کٹارے کے مابین کانٹے کا مقابلہ ہو رہا ہے۔ دونوں مقامات پر نو اپریل کو ووٹنگ ہوئی تھی۔ اٹیر سیٹ سابق اپوزیشن لیڈر اور کانگریس لیڈر ستیہ دیو کٹارے کی موت کے سبب اور باندھو گڑھ سیٹ سے ایم ایل اے رہنے والے سینئر بی جے پی لیڈر گیان سنگھ کے لوک سبھا کے لئے منتخب ہونے کے سبب خالی ہوئی ہے۔

مدھیہ پردیش کی باندھو گڑھ سیٹ پھر بی جے پی کی جھولی میں، آسام کی دھیماجی سیٹ بھی جیتی

وہیں، آسام کی دھیماجي اسمبلی سیٹ پر ہوئے ضمنی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے امیدوار رنجن پیگو نے نو ہزار ووٹوں سے جیت درج کی۔ بی جے پی امیدوار کو 75،217 ووٹ ملے جبکہ ان کے قریب ترین حریف کانگریس کے امیدوار بابل سونووال کو 65،932 ووٹ حاصل ہوئے۔ گزشتہ اتوار کو اس سیٹ پر ضمنی انتخاب کرایا گیا تھا جس میں تقریباً 67 فیصد پولنگ ہوئی تھی۔ بی جے پی ممبر اسمبلی پردھان باروه کے لوک سبھا کے لئے منتخب ہونے کے بعد اس سیٹ کے خالی ہونے پر ضمنی انتخاب کرایاگیا تھا۔ مسٹر سروانند سونووال کے آسام کے وزیر اعلی بننے کے بعد انہوں نے اپنی پارلیمانی سیٹ سے استعفی دے دیا تھا جس کے بعد بوه ان کی سیٹ سے ایم پی منتخب ہوئے ہوئے تھے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز