سرینگر ضمنی انتخابات: سخت سیکورٹی انتظامات کے درمیان ووٹوں کی گنتی جاری

Apr 15, 2017 12:38 PM IST | Updated on: Apr 15, 2017 12:38 PM IST

سرینگر ۔ جموں کشمیر کی سرینگر لوک سبھا سیٹ پر ہونے والے ضمنی انتخاب کے لئے آج صبح آٹھ بجے ووٹوں کی گنتی شروع ہوئی۔ گزشتہ نو اپریل کو بڑے پیمانے پر ہونے والے تشدد کے درمیان محض سات فیصد ہی پولنگ ہوئی تھی۔ ووٹنگ کے دوران ہونے والے تشدد میں سیکورٹی فورسز کی کارروائی میں آٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے اور 100 دیگر زخمی ہو گئے تھے۔ پولنگ مخالفت مظاہرین کے پتھراؤ میں 150 سے زائد سیکورٹی بھی زخمی ہو گئے تھے۔ الیکشن کمیشن کے حکم کے بعد اس سیٹ کے 38 پولنگ مراکز پر 13 اپریل کو ہونے والے دوسرے مرحلہ میں صرف دو فیصد ہی پولنگ ہوئی تھی۔ ووٹوں کی گنتی سخت سیکورٹی انتظامات کے درمیان ایس كے انٹرنیشنل کنونشن كامپلكس، جموں کے اودھم پور میں چل رہی ہے۔

گزشتہ نو اپریل کو ہونے والی ووٹنگ کے دوران تشدد کی وجہ سے یہاں 13.73 لاکھ ووٹروں میں سے صرف 07.14 فیصد ووٹروں نے ہی اپنے ووٹ کے حق استعمال کیا تھا۔

سرینگر ضمنی انتخابات: سخت سیکورٹی انتظامات کے درمیان ووٹوں کی گنتی جاری

اس سیٹ پر اہم مقابلہ سابق وزیر اعلی اور اپوزیشن نیشنل کانفرنس (این سی) کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور حکمران پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے امیدوار نذیر احمد خان کے درمیان ہے۔ ان دونوں کے علاوہ سات اور امیدوار میدان میں ہیں جس لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے بکرم سنگھ، آل انڈیا ہندو مہاسبھا کے چیتن شرما، قومی سماج وادی پارٹی (ایس) کے سجاد ریشي اور آزاد امیدوار سجاد حسین بیگ، غلام حسن دار، فاروق احمد دار اور میهرراج خورشید ملک ہے۔ یہ سیٹ پی ڈی پی کے رہنما طارق حمید کارا کے استعفی کی وجہ خالی ہوئی تھی۔ مسٹر کارا ریاست میں پی ڈی پی اور بی جے پی کے اتحاد کی مخالفت میں اپنی پارٹی اور لوک سبھا سے استعفی دے کر کانگریس میں شامل ہو گئے تھے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز