Live Results Assembly Elections 2018

ووٹوں کی گنتی کی الٹی گنتی شروع ہونے کے ساتھ ہی بڑھنے لگی امیدواروں میں بے چینی

ہماچل پردیش اور گجرات میں حال ہی میں اختتام پذیر اسمبلی انتخابات کے ووٹوں کی گنتی آج شروع ہونے کے ساتھ ہی سیاسی پارٹیوں اور بالخصوص بی جے پی اور کانگریس پارٹی اور امیدواروں کی دھڑکنیں تیز ہو گئی ہیں۔

Dec 18, 2017 06:34 AM IST | Updated on: Dec 18, 2017 06:34 AM IST

نئی دہلی۔ ہماچل پردیش اور گجرات میں حال ہی میں اختتام پذیر اسمبلی انتخابات کے ووٹوں کی گنتی آج شروع ہونے کے ساتھ ہی سیاسی پارٹیوں اور بالخصوص بی جے پی اور کانگریس پارٹی اور امیدواروں کی دھڑکنیں تیز ہو گئی ہیں۔ نو نومبر کو ہماچل پردیش میں ہوئے اسمبلی انتخابات کی کل 68 سیٹوں پر اپنی قسمت آزما رہے 337 امیدواروں اور وہیں، 9   اور 14 دسمبر کو گجرات کی کل 182 سیٹوں پر ہوئے اسمبلی انتخابات میں اپنی داوں لگا رہے ایک ہزار سے زائد امیدواروں کے دلوں کی دھڑکنیں تیز ہو گئی ہیں۔

آج ووٹروں کے من کی بات کے ساتھ دونوں ریاستوں میں نئی حکومت ای وی ایم سے باہر آ جائے گی۔ اگر بات گجرات کی کریں تو گجرات کے الیکشن کو وزیر اعظم نریندر مودی اور کانگریس کے نومنتخب صدر راہل گاندھی کے لئے وقار کی جنگ کے ساتھ ہی حکمراں بی جے پی اور سب سے بڑی اپوزیشن کانگریس کے لئے کرو یا مرو کی جنگ اور 2019 کے لوک سبھا کا سیمی فائنل قرار دیا جا رہا ہے۔ بیتابی اس بات کو لے کر ہے کہ گجرات کا ریفرینڈم وزیر اعظم نریندر مودی کے وعدے کرتے رہنے اور سبز باغ دکھاتے رہنے یا پھر کانگریس صدر راہل گاندھی کے بلند حوصلوں اور ارادوں اور وعدوں کے ساتھ کھڑا ہو گا۔

ووٹوں کی گنتی کی الٹی گنتی شروع ہونے کے ساتھ ہی بڑھنے لگی امیدواروں میں بے چینی

گجرات الیکشن مودی کی لہر یا ان کے کرشمہ کا امتحان ہے تو وہیں کانگریس کے نو منتخب صدر راہل گاندھی کا سب سے بڑا سیاسی لٹمس ٹیسٹ بھی ہے۔

 تمام ایگزٹ پول کی رائے سامنے آنے کے بعد اب آج 18 دسمبر کو ای وی ایم کھلنے کی باری ہے۔ دونوں ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی کی الٹی گنتی شروع ہونے کے ساتھ ہی سیاسی جماعتوں اور تمام  امیدواروں کی دھڑکنیں تیز ہونا ایک فطری بات ہے۔

یہاں آپ کو بتا دیں کہ گجرات میں مکمل انتخابی مہم وزیر اعظم نریندر مودی اور کانگریس صدر راہل گاندھی کی شخصیت پر ہی مرکوز رہی۔  گزشتہ 22 سالوں سے اقتدار پر قابض بی جے پی جہاں ایک طرف ریاست میں لگاتار پانچویں مرتبہ اقتدار حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف رہی ، دعووں اور بیان بازیوں کا دور جاری رہا ، تو وہیں بی جے پی کے لئے یہ فکرمندی کی بات بھی رہی ہے کہ 2015 میں ریزرویشن کو لے کر مظاہرہ کے دوران تشدد سے ناراض پاٹیدار سماج کا غصہ الیکشن کے دن پھوٹ سکتا ہے اور یہ پارٹی کیلئے کافی مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔

Loading...

بجا طور پر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ گجرات الیکشن مودی کی لہر یا ان کے کرشمہ کا امتحان ہے تو وہیں کانگریس کے نو منتخب صدر راہل گاندھی کا سب سے بڑا سیاسی لٹمس ٹیسٹ بھی ہے۔

جبکہ دوسری طرف ہماچل پردیش اسمبلی الیکشن کو یکطرفہ الیکشن قرار دیا جا رہا ہے۔ یہاں بی جے پی  اپنی حکومت سازی کو لے کر پوری طرح سے مطمئن ہے، کیونکہ اس ریاست میں ہر پانچ سال کے بعد حکومت بدلتی رہتی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے یہاں بی جے پی کے ایک بڑے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ریاست میں انتخابی ماحول کو آرام سے محسوس کیا جاسکتا ہے۔ یہاں کانگریس میدان چھوڑ کر بھاگ گئی ہے اور ماحول پوری طرح بی جے پی کے حق میں ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ سیاست میں ہار جیت ہوتی ہی رہتی ہے لیکن اپوزیشن کی غیر موجودگی سے یہاں انتخابات میں مزا نہیں آرہا ہے۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز