مخصوص نظریہ زبردستی تھوپنے سے ملک میں خانہ جنگی کی صورتحال : غلام نبی آزاد

Sep 13, 2017 11:09 PM IST | Updated on: Sep 13, 2017 11:09 PM IST

لکھنؤ: کانگریسی لیڈروں نے آج بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر ملک میں ایک خاص نظریہ مسلط کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اس سے ملک میں خانہ جنگی جیسی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ اندرا گاندھی فاؤنڈیشن میں منعقدہ اندرا گاندھی کی سالگرہ صدی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اترپردیش کانگریس کے صدر راج ببر اور پارٹی کے جنرل سکریٹری اور اترپردیش کے انچارج غلام نبی آزاد نے پارٹی کارکنوں کو سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کی زندگی اور ان کی کامیابی کے بارے میں یاد دلایا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی ملک پر اپنے مخصوص نظریہ مسلط کررہی ہے، جس سے ملک میں خانہ جنگی جیسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔

سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی اور ملک کے لئے ان کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر غلام نبی آزاد نے کہا کہ ملک کو جنگ جیسی صورتحال کا سامنا ہے۔ یہ لڑائی چین یا پاکستان کی طرف سے نہیں ہے، بلکہ یہ نظریہ کی لڑائی ہے جو زبردستی ملک پر مسلط کی جارہی ہے۔ مسٹر غلام نبی آزاد نے کہا کہ ملک میں دو قسم کے نظریے کے درمیان جنگ جاری ہے۔ سماجی ڈھانچے کو بچانے کے لئے ملک میں یہ لڑائی چل رہی ہے۔ کچھ لوگ معاشرے کو تقسیم کرنے کی سیاست کر رہے ہیں اور وہ ملک کی قیمت پر اپنی پارٹی کی تشہیر کررہے ہیں۔

مخصوص نظریہ زبردستی تھوپنے سے ملک میں خانہ جنگی کی صورتحال : غلام نبی آزاد

کانگریس کے جنرل سکریٹری مسٹرغلام نبی آزاد نے دعوی کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی جب ملک میں ہوتے ہیں تو چھ بار کپڑے تبدیل کرتے ہیں اور غیر ملکی دورے پر ہوتے ہیں تو دن میں پانچ بار سوٹ بدلتے ہیں۔ وہ غریبوں کے بارے میں قطعی فکر مند نہیں ہیں۔ ایک امیر آدمی کا ملک کے لئے اپنے آرام اور کام کی قربانی دینا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اس موقع پر کانگریس کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکن منی شنکر ایئر کا کہنا تھا کہ مرکز کی مودی حکومت 40 ہزار روہنگیا مسلمانوں کو پناہ نہیں دے رہی ہے جبکہ وزیر اعظم اندرا گاندھی نے ایک کروڑ سے زائد افراد کو پناہ دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ آنجہانی اندرا گاندھی نے دنیا بھر میں ملک کا نام روشن کیا۔ ان کی غیر ملکی پالیسی کا کوئی جواب نہیں ہے۔ اندرا گاندھی کی خارجہ پالیسی کو دنیا بھر میں احترام حاصل کی۔وہ چاہتی تھیں کہ دنیا کا ہر ملک آزاد ہو۔ بہت سے ممالک میں امریکہ نے جنگ تھوپ رکھی تھی۔ کئی ممالک ویت نام سے تعلقات رکھتے تھے، اس وقت اندرا گاندھی نے یہ واضح کیا تھا کہ "آپ ہمیں گیہوں دے کر خرید نہيں سکتے، ہم سب کے ساتھ تعلقات رکھیں گے، تب جاکر امریکہ کو پیچھے ہٹنا پڑا"۔ اندرا گاندھی نے تمل ناڈو میں سری لنکائی تارکین وطن کو پناہ دیا۔ ان کے کیمپ آج بھی موجود ہیں، اور وہ سبھی سہولیات حاصل کررہے ہیں۔ شملہ معاہدہ آج تک بامعنی ہے۔ اندرا گاندھی نے جنوبی ایشیا میں امن برقرار رکھنے کے لئے کام کیا تھا۔ ملک اندرا گاندھی کے دکھائے گئے راستے پر چل کر ہی آگے بڑھ سکتا ہے۔ اس موقع پر کانگریس کمیٹی کے ریاستی صدر راج ببر نے کہاکہ ملک کو محب وطن اور قوم پرست کے درمیان فرق کو سمجھنا پڑے گا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز