آگسٹاویسٹ لینڈ خریداری معاملہ: عدالت سے رمن حکومت کو بڑی راحت

Feb 13, 2018 12:40 PM IST | Updated on: Feb 13, 2018 02:13 PM IST

نئی دہلی۔سپریم کورٹ نے آگسٹاو یسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر خریداری معاملہ میں چھتیس گڑھ کی رمن سنگھ حکومت کو بڑی راحت دیتے ہوئے اس معاملہ میں تحقیقات کا مطالبہ کرنے والی عرضی آج منسوخ کر دی۔

جسٹس آدرش کمار گوئل اور جسٹس للت امیش کی بنچ نے معاملے کی جانچ سے متعلق غیر سرکاری تنظیم ’سوراج ابھیان‘ کی درخواست مسترد کر دی۔

آگسٹاویسٹ لینڈ خریداری معاملہ: عدالت سے رمن حکومت کو بڑی راحت

آگسٹاو یسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر خریداری معاملہ میں چھتیس گڑھ کی رمن سنگھ حکومت کو بڑی راحت

درخواست گزار کی جانب سے معروف وکیل پرشانت بھوشن نے دلیل دی تھی کہ رمن سنگھ حکومت نے اس وی وی آئی پی ہیلی کاپٹر کی خریداری میں شفافیت نہیں برتی تھی۔ درخواست گزار کا الزام تھا کہ ہیلی کاپٹر خریداری میں زیادہ رقم دی گئی تھی۔

چھتیس گڑھ حکومت نے 2007 آگسٹاو یسٹ لینڈ کمپنی سے ہیلی کاپٹر خریدا تھا

واضح ہو کہ 2007 میں چھتیس گڑھ حکومت نے آگسٹاو یسٹ لینڈ کمپنی سے ہیلی کاپٹر خریدا تھا۔ تب ہی سے اس سودے میں مبینہ بدعنوانی کے الزامات پر معاملہ التوامیں تھا۔

اس سے پہلے 16 نومبر 2017 کو عدالت عظمی نے چھتیس گڑھ کی ڈاکٹر رمن سنگھ حکومت سے ہیلی کاپٹر خریدنے سے متعلق فائل طلب کی تھی۔اس میں ایک ہفتے میں ریاستی حکومت کو اصل دستاویزات کی فائل عدالت میں جمع کرانے کے احکامات دیئے گئے تھے۔

بنچ نے ریاستی حکومت سے پوچھا تھا کہ آخر آگسٹاویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر ہی خریدا جائے گا، یہ فیصلہ کس نے لیا تھا۔اس معاملہ میں سماعت کے دوران مسٹر بھوشن نے سودے کے مختلف پہلوؤں پر سوال کھڑے کئے تھے۔ کورٹ نے بھی کئی پوائنٹس پر غور و خوض کیا تھا۔ کورٹ نے کہا تھا کہ اس کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ جب چیف سکریٹری نے اپنے نوٹ میں کسی بھی ہیلی کاپٹر کی خریداری کی بات لکھی تھی تو پھر صرف آگسٹا ویسٹ لینڈ کے لئے ہی ٹینڈر جاری کیوں ہوا۔ عرضی گزارکی جانب سے پیش مسٹر بھوشن نے الزام لگایا ہے کہ چھتیس گڑھ حکومت نے اطالوی کمپنی آگسٹاویسٹ لینڈ سے طے قیمت سے زیادہ پیسے دے کر ہیلی کاپٹر خریدا تھا۔ انہوں نے حق اطلاعات (آر ٹی آئی) قانون کے تحت حاصل کچھ دستاویزات کا بھی حوالہ دیا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز