وکیل نے علاحدگی پسند لیڈر شبیر شاہ سے کہا : بھارت ماتا کی جے بولو، جج نے کہا : یہ ٹی وی اسٹوڈیو نہیں

Aug 03, 2017 10:06 PM IST | Updated on: Aug 03, 2017 10:06 PM IST

نئی دہلی: دہشت گردوں کو فنڈز فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار کشمیری علیحدگی پسند لیڈر شبیر شاہ کی پٹیالہ ہاؤس عدالت نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی حراست مزید چھ دنوں کے لئے بڑھا دی ہے۔ شبیر کو 10 سال پرانے ایک حوالہ معاملہ میں 25 جولائی کو کشمیر سے گرفتار کر کے دہلی لایا گیا تھا۔ پہلے عدالت نے اسے سات دن کی ای ڈی حراست میں بھیجا تھا۔کل حراست کی مدت ایک دن بڑھادی گئی تھی۔ آج حراست کو مزیدچھ دنوں کے لئے بڑھا دیا گیا۔

ای ڈی نے شبیر کی حراست مدت بڑھانے کے لیے دائر اپنی درخواست میں کہا کہ وہ پاکستان کے دہشت گردوں سے مسلسل رابطے میں ہے۔ عرضی میں کہا گیا کہ شاہ کے موبائل فون کی تفصیلات لینے پر پتہ چلا کہ اس کے دبئی، پاکستان اور انگلینڈ سے تعلقات ہیں، جن کی تفتیش کئے جانے کی ضرورت ہے۔

وکیل نے علاحدگی پسند لیڈر شبیر شاہ سے کہا : بھارت ماتا کی جے بولو، جج نے کہا : یہ ٹی وی اسٹوڈیو نہیں

شبیر نے اپنی درخواست میں اس کی جان کو خطرہ اور ای ڈی پر اس کے ساتھ غیر انسانی سلوک کرنے کا الزام لگایا۔ اس نے یہ بھی الزام لگایا کہ خالی کاغذات اور بیانات پر زبردستی دستخط کرائے گئے۔ شبیر کا یہ بھی الزام تھا کہ سیاسی اغراض کے سبب ان کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔ ڈائریکٹوریٹ کے ایڈوکیٹ نے شاہ کے الزامات پر کہا کہ اس کے جیسے لوگ ملک کو تباہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔

بحث کے دوران ای ڈی کے وکیل نے کہا کہ کیا شاہ بھارت ماتا کی جے بول سکتے ہیں۔ وکیل کے اس بیان پر جج نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کو ٹیلی ویزن کے اسٹوڈیو نہیں بنائیں۔ ای ڈی نے کل بھی سات دن کی مزید حراست مانگی تھی، لیکن ایڈیشنل سیشن جج اس سے متفق نہیں ہوئے تھے اور صرف ایک دن کی ہی حراست بڑھائی تھی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز