ہندوستان میں جج کم ، كورٹ روم زیادہ ، کیسے ہو مقدموں کا تصفیہ

Jul 09, 2017 02:02 PM IST | Updated on: Jul 09, 2017 02:02 PM IST

نئی دہلی: تقریباً سوا دو کروڑ زیر التوا معاملوں کو نمٹانے کی جدوجہد کر رہی ملک کی ماتحت عدالتوں میں كورٹروم زیادہ ہیں پر وہاں بیٹھنے والے جج کم ہیں۔ سرکاری معلومات کے مطابق دسمبر 2016 کے آخر تک نچلی عدالتوں میں عدالت چیمبروں کی تعداد 17300 تھی ،جبکہ عدالتی افسران کی تعداد 16413 تھی۔ حکومت ضلع اور ماتحت عدالتوں میں مستقبل کی ضروریات کو ذہن میں رکھتے ہوئے تین ہزار اور كورٹروم بنوا رہی ہے۔ ان کے بن کر تیار ہونے کے بعد عدالت چیمبروں کی کل تعداد 20 ہزار سے تجاوز کر جائے گی۔ وزارت قانون کے ذرائع نے بتایا کہ حکومت نے ضلع اور ماتحت عدالتوں میں دو کروڑ 16 لاکھ زیر التواء مقدموں کو ذہن میں رکھتے ہوئے اعلی عدالتوں کو خط لکھ کر جلد از جلد ججوں کی تعداد بڑھانے کی صلاح دی ہے۔ حکومت نے اس کے لئے کم از کم چھ ہزار ججوں کی بھرتی کرنے کو کہا ہے۔

تازہ ترین اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ نچلی عدالتوں کے علاوہ ملک کی 24 اعلی عدالتوں میں 40 لاکھ اور سپریم کورٹ میں کم از کم 60 ہزار کیس زیر التوا ہیں۔ ضلع اور ماتحت عدالتوں میں تقرریاں اعلی عدالتوں کے ذمہ ہے، اس میں مرکز اور ریاستی حکومتوں کا کوئی اہم کردار نہیں ہے۔ گزشتہ دو سال میں ان عدالتوں میں خالی جگہوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور یہ 4000 سے بڑھ کر 5800 تک پہنچ گئی ہے۔ مختلف سرکاری اور عدالتی اصلاحات کے باوجود عدالتی حکام کے عہدے خالی پڑے ہیں۔

ہندوستان میں جج کم ، كورٹ روم زیادہ ، کیسے ہو مقدموں کا تصفیہ

ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی اور مقدمہ دائر کرنے کے بڑھتے ہوئے رجحانات پر چھاپ چھوڑنے کے لئے حکومت نے ضلع اور ماتحت عدالتوں میں ججوں کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے لئے حکومت نے 2013 میں ججوں کے لئے 19 ہزار 500 عہدوں کو 2016 میں بڑھا کر 22 ہزار 288 کیاہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز