جموں وکشمیر: عیدالاضحی قریب آنے کے ساتھ ہی مویشیوں کی ٹرانسپورٹیشن کے خلاف کریک ڈاؤن تیز

عید الاضحی کے قریب آنے کے ساتھ ہی ملک کی واحد مسلم اکثریتی ریاست جموں وکشمیر کے مختلف اضلاع بالخصوص راجوری، کٹھوعہ، پونچھ اور ریاسی میں ریاستی پولیس نے مویشیوں کی ٹرانسپورٹیشن کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کردیا ہے۔

Aug 20, 2017 06:29 PM IST | Updated on: Aug 20, 2017 06:29 PM IST

سری نگر: عید الاضحی کے قریب آنے کے ساتھ ہی ملک کی واحد مسلم اکثریتی ریاست جموں وکشمیر کے مختلف اضلاع بالخصوص راجوری، کٹھوعہ، پونچھ اور ریاسی میں ریاستی پولیس نے مویشیوں کی ٹرانسپورٹیشن کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کرتے ہوئے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران کم از کم 250مویشی اور دو درجن گاڑیاں ضبط کرلی ہیں۔ اس کے علاوہ قریب ایک درجن افراد کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ بیشتر مویشیوں کو مغل روڈ کے راستے وادی کشمیر پہنچانے کی کوششوں کے دوران ضبط کرلیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صرف ایسے مویشیوں کو ضبط کرلیا جاتا ہے جن کے مالکان انہیں ڈسٹرک مجسٹریٹ سے اجازت نامہ حاصل کئے بغیر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتے ہیں۔

ذرائع نے بتایاکہ مویشیوں جیسے گائے، بھینس اور بیل کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کے لئے مجسٹریٹوں سے اجازت نامہ حاصل کرنا ہوتا ہے۔ لیکن عیدالاضحی سے قبل مویشیوں کی غیرقانونی ٹرانسپورٹیشن میں غیرمعمولی اضافہ ہوجاتا ہے، جس پر قابو پانے کے لئے پولیس مویشیوں اوران کو لے جانے والی گاڑیوں کی ضبطی عمل میں لاتی ہے‘۔ سرکاری ذرائع نے یو این آئی کو بتایا ’جموں کے اضلاع میں مویشیوں کی ٹرانسپورٹیشن پر پابندی عائدہے۔ اگر مویشیوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا درکار ہو ، تو اس کے لئے متعلق ضلع مجسٹریٹ کی اجازت حاصل کرنا ضروری ہے‘۔

جموں وکشمیر: عیدالاضحی قریب آنے کے ساتھ ہی مویشیوں کی ٹرانسپورٹیشن کے خلاف کریک ڈاؤن تیز

File Photo

یو این آئی کے پاس موجود سرکاری اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ریاستی پولیس نے جموں خطہ کے مختلف اضلاع میں مویشیوں کو غیرقانونی طور پر ایک جگہ سے دوسری جانب لے جانے کی قریب دو درجن کوششیں ناکام بناتے ہوئے 250 مویشیوں کو ضبط کرلیا۔ تاہم ریاستی پولیس اپنے پریس بیانوں میں مویشیوں کی ضبطی کے لئے ’ریسکیو‘ لفظ استعمال کرتی ہے۔ اس کے علاوہ دو درجن گاڑیوں کی ضبطی کے علاوہ قریب ایک درجن افرادکی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ مویشیوں کی غیرقانونی ٹرانسپورٹیشن کی تازہ کوشش جموں کے ضلع ریاسی میں ناکام بنائی گئی ہے۔ ایک پولیس عہدیدار نے بتایا ’ہفتہ اور اتوار کی درمیانی رات کو دو افراد کو اُس وقت گرفتار کرلیا گیا جب وہ مویشیوں کو ضلع ریاسی سے کشمیر اسمگل کررہے تھے‘۔

انہوں نے گرفتار شدگان کی شناخت دلاور حسین اور شوکت علی ساکنان چسانہ ریاسی کے بطور کردی۔ مذکورہ عہدیدار نے بتایا ’اسمگلنگ کی کوشش کو ناکام بنانے کے دوران چار گائیں، چھ بھینسیں اور ایک بچھڑا ضبط کرلیا گیا‘۔ پولیس نے 12 اور 13 اگست کی درمیانی رات کو مویشی اسمگلنگ کی ایک بڑی کوشش ناکام بناتے ہوئے 116 مویشیوں کو بچانے اور 16 گاڑیوں کو ضبط کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ پولیس نے 18 اور 19 اگست کی درمیانی رات کو ضلع کٹھوعہ میں دو مختلف واقعات میں 46 مویشیوں کو بچانے کا دعویٰ کیا۔ اسی رات کو پولیس نے ضلع راجوری کے مختلف علاقوں میں اسمگلنگ کی متعددکوششیں ناکام بناتے ہوئے 74 مویشیوں کو بچانے کا دعویٰ کیا۔

Loading...

ذرائع نے بتایا کہ مویشیوں کی غیرقانونی ٹرانسپورٹیشن کو روکنے کے لئے جموں میں مختلف مقامات بالخصوص مختلف علاقوں کو تاریخی مغل روڈسے جوڑنے والی سڑکوں پر ناکے بٹھائے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عیدالاضحی سے قبل جموں کے مختلف علاقوں سے مویشیوں کو کشمیر اسمگل کرنے کی کوششوں میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوتا ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جموں خطہ میں گزشتہ چند برسوں کے دوران مویشیوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے والوں پر تشدد کے واقعات بھی پیش آئے۔ رواں برس 21 اپریل کو ضلع ریاسی میں مبینہ گاؤ رکشکوں کے حملے میں ایک 9 سالہ بچی سمیت ایک خانہ بدوش گوجر بکروال کنبے کے پانچ افراد زخمی ہوئے تھے۔ گاؤ رکشکوں نے خانہ بدوش گوجر بکروال کنبے پر اُس وقت حملہ کیا تھا جب وہ اپنے مال مویشی کو لیکر کہیں جارہے تھے۔

خانہ بدوش کنبہ کے متذکرہ مال مویشیوں کے ریوڑ میں بکریوں اور بھیڑوں کے علاوہ 16 گائیں بھی شامل تھیں۔ گذشتہ برس 8 ستمبر کو مویشیوں کو جموں سے کشمیر اسمگل کرنے کے لئے استعمال کئے جانے والے ٹرک کو لوگوں نے ضلع راجوری میں نذر آتش کیا تھا۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز