محض 16 سال کی عمر تک کتنی مرتبہ ہو چکا تھا اس کے جسم کا سودہ ، پڑھیں رونگٹے کھڑے کر دینے والی یہ کہانی

دہلی کے ایک اپ نگر کے تھانے میں 16 سال کی پریتی دوڑتی ۔ہانپتی ہوئی پہنچی۔

Jun 27, 2018 10:02 AM IST | Updated on: Jul 14, 2018 08:52 PM IST

دہلی کے ایک اپ نگر کے تھانے میں 16 سال کی پریتی دوڑتی ہانپتی ہوئی پہنچی۔ پسینے ۔پسینے ہو چکی گھبرائی پریتی کو پانی پلا کر جب پولیس نے پورا معاملہ پوچھا تو پریتی نے بتایا کہ وہ بڑی مشکل میں ہے۔ پولیس کے سوالوں پر دھیرے دھیرے پریتی نے کھل کر بتایا کہ  اسے روہتک کے ایک آدمی نے تقریبا سال بھر پہلے خریدا تھا اور صرف اس کے جسم کے استعمال کے لئے اسے قید میں رکھا گیا تھا۔ پولیس یہ سب دھیان سے سن رہی تھی ۔روہتک کے کس آدمی نے کس سے خریدا تھا؟ یہ سوال سن کر پریتی نے پھر پانی پیا اور کچھ سانسیں بھر کر تسلی سے پوری کہانی سنائی۔ پریتی نے بتایا کہ سال 2009 میں اسے 11 سال کی عمر میں ایک عورت نے ایک لاکھ روپئے میں خریدا تھا ۔ رشتہ داروں نے اس کا سودا کر دیا تھا اور وہ عورت پریتی کو دہلی لیکر آئی۔

کچھ دنوں تک پریتی کو قید میں رکھا گیا لیکن کھانے پینے کا دھیان رکھا گیا۔ مارپیٹ کرنے کے ساتھ ہی پریتی کو ڈرگس کے انجیکشن دئے جاتے تھے۔ تھوڑے ہی دنوں میں پریتی کا جسم بھر گیا اور وہ ڈرگس کی عادی ہو نے لگی۔ پریتی نے بتایا کہ اس عورت کو سب پنجابن کہتے تھے اور اس نے پھر سیکس کیلئے پریتی کو بیچنا شروع کیا ۔ کم عمر کی لڑکیوں کے شوقین کلائنٹس کے لئے پنجابن کافی وقت تک پریتی کو استعمال کرتی رہی۔

محض 16 سال کی عمر تک کتنی مرتبہ ہو چکا تھا اس کے جسم کا سودہ ، پڑھیں رونگٹے کھڑے کر دینے والی یہ کہانی

علامتی تصویر

Loading...

یہ سلسلہ کچھ سالوں تک چلتا رہا اور پھر پریتی کو لکھنؤ کے ایک شخص کے ہاتھوں پنجابن نے بیچ دیا جو لڑکیوں کا سودا کرتا تھا ۔پنجابن کو اچھی رقم ملی لیکن پریتی کو پھر وہی دوزخ ملا۔ لکھنؤ میں کچھ وقت تک اس کے خریدار نے اس کے جسم کا استعمال کر کے خوب پیسہ کمایا پھر اس نے دہلی کے تلک نگر میں لڑکیوں کے ایک دلال کے ہاتھوں پریتی کو بیچ دیا۔

punjaban6-1

بیچے اور خریدے جانے کے اس پورے سلسلے کے دوران ڈرگس کی لت سے بچنے کی جدو جہد کر رہی تھی۔ ساتھ ہی پریتی اکثر اس قید سے چھوٹ جانے کی کوشش کرتی تھی لیکن اس کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی تھیں اور ہر کوشش کے بعد اسے بری طرح پیٹا جاتا تھا ۔ اس کی اس حرکت کی سزا میں کئی لوگ اس کے جسم کو روندتے تھے۔

کہانی یہیں ختم نہیں ہوئی ۔پولیس کے پاس کیس درج کروانے کے بعد پریتی  اپنے دوست کے پاس جانے کی بات کہہ کر چلی گئی ۔کہانی میں موڑ  تب آیا جب اس شکایت کے فورا بعد پریتی غائب ہو گئی۔ پولیس تفتیش کے سلسلے میں پریتی سے ایک اور لنکس چاہتی تھی لیکن پریتی کا کوئی پتہ نہیں چلا ۔ کچھ دنوں تک غائب پریتی کی تلاش کرنے کے بعد جب پولیس کو اس کا کوئی سراغ نہیں ملا تو اس نے کیس کو ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا ۔

تقریبا ڈھائی سال بعد پولیس کے افسران بدلے اور اس کیس کو پھر کھولا گیا ۔نئے سرے سے تفتیش شروع کی گئی اور ایک نئی ٹیم نے پریتی کا سراغ لگانے کی کوشش کی لیکن پھر پولیس کے ہاتھ ناکامی لگی اور پریتی کا کہیں کچھ پتہ نہ چلا۔ اب پولیس نے اس کیس کو بند کرنے کا فیصلہ کیا اور حتمی رپورٹ کے ساتھ کیس کی فائل کلوز کرنے سے پہلے ہی سائبر سیل نے ایک نمبر کے بارے میں پولیس ٹیم کو اطلاع دی۔

یہ نمبر پریتی کے ایک دوست کا تھا جس نے کچھ اور رابطہ نمبر دئے اور کچھ ہی دنوں میں پریتی کو تلاش کر لیا گیا ۔پریتی بیحد ڈری اور سہمی حالت میں ملی۔ اندر تک سہمی گڑ گڑا کر یہی کہتی رہی کہ اگر اس نے اس کیس کو آگے بڑھایا تو اسے جان سے مار ڈالا جائے گا اور اس کی کاؤنسلنگ کراوئی گئی۔ آخر کار پریتی نے مجسٹریٹ کے سامنے بیان دیا اور بتایا کہ کیسے اسے ایک درجن مرتبہ خریدا ۔بیچا گیا۔

سونو پنجابن

اس کے بعد پولیس نے شکنجہ کستے ہوئے جسے پنجابن کہا جاتا تھا اس عورت کو گرفتار کر لیا۔ پریتی کے اصل نام کا تو انکشاف نہیں کیا گیا لیکن اس بہانے سامنے آگئی جسم فروشی کے دھندے کی ارب پتی ڈان سونو پنجابن کی کہانی۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز