لوگ یہ دعا کر رہے تھے ضبط نہ ہو 'سائیکل'، ورنہ ڈوب جاتے کروڑوں روپئے

نئی دہلی۔ سائیکل انتخابی نشان ضبط نہ ہو اس کے لئے صرف اکھلیش یادو اور ملائم سنگھ یادو کے حامی ہی دعا نہیں کر رہے تھے۔

Jan 17, 2017 09:31 AM IST | Updated on: Jan 17, 2017 09:31 AM IST

نئی دہلی۔ سائیکل انتخابی نشان ضبط نہ ہو اس کے لئے صرف اکھلیش یادو اور ملائم سنگھ یادو کے حامی ہی دعا نہیں کر رہے تھے۔ پارٹی سے الگ بھی کچھ لوگ ایسے تھے جو رات دن سائیکل انتخابی نشان بچانے کی دعا مانگ رہے تھے۔ ہر وقت ان کے منہ سے صرف ایک ہی بات نکل رہی تھی کہ کسی کو بھی ملے، لیکن سائیکل نشان بچ جائے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو کروڑوں روپے برباد ہو جائیں گے۔ یہ کوئی سٹے باز نہیں بلکہ ایس پی دفتر کے باہر تشہیری اشیا فروخت کرنے والے چار پانچ دکاندار ہیں۔ یہیں سے ریاست بھر میں 10 سے 15 کروڑ روپے کی تشہیری اشیا کا کاروبار ہوتا ہے۔

ویسے تو طویل عرصے سے ایس پی میں گھمسان ​​چل رہا تھا۔ لیکن چار جنوری سے یہ تنازعہ عروج پر پہنچ گیا تھا۔ پارٹی کو تو اس سے جو نقصان ہو رہا تھا وہ تو ہے ہی، لیکن سماج وادی پارٹی کی تشہیری اشیا فروخت کرنے والے دکانداروں کی سانسیں بھی اٹکی ہوئی تھیں۔ تیار تشہیری اشیا ان کی دکانوں میں بھری پڑی ہیں۔ انتخابی نشان سائیکل کے حساب سے تشہیری اشیا تیار کرائی گئی تھی۔ لیکن جب اس کا معاملہ الیکشن کمیشن میں پہنچ گیا تو یہ خدشہ ستانے لگا کہ کبھی بھی کمیشن انتخابی نشان سائیکل کو ضبط کر سکتا ہے، یہ سن کر دکاندار بے چین ہو جاتے تھے۔

لوگ یہ دعا کر رہے تھے ضبط نہ ہو 'سائیکل'، ورنہ ڈوب جاتے کروڑوں روپئے

ٹی وی اور موبائل پر پل پل ایس پی اور کمیشن سے منسلک خبریں پڑھتے اور دیکھتے رہتے تھے۔ یہ تمام پانچ دکانیں ایس پی کے اترپردیش دفتر کے باہر ہی ہیں۔ ایک دوکاندار موہن لال اگروال بتاتے ہیں کہ پوری ریاست میں سماج وادی پارٹی کے نشان والی تشہیری اشیا یہیں سے سپلائی ہوتی ہیں۔ کل ملاکر تقریبا 10 سے 15 کروڑ روپے کا کاروبار ہے۔ کچھ کاروبار ضلع سطح پر بھی ہوتا ہے۔ لیکن اس وقت تو ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے تھے۔

 

 

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز