سی ایس ڈی ایس کا سروے : ہندوستان میں صرف 33 فیصد ہندو مسلمانوں کو مانتے ہیں اپنا قریبی دوست

انسانوں کی دوستی میں مذہب کتنی اہمیت رکھتا ہے ، خاص طور سے ہندو اور مسلمانوں کے درمیان، سی ایس ڈی ایس کے سروے سے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے

Apr 06, 2017 07:24 PM IST | Updated on: Apr 06, 2017 07:24 PM IST

نئی دہلی : انسانوں کی دوستی میں مذہب کتنی اہمیت رکھتا ہے ، خاص طور سے ہندو اور مسلمانوں کے درمیان، سی ایس ڈی ایس کے سروے سے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔سینٹر فار دی اسٹڈی آف ڈیولپنگ سوساٹيز سی ایس ڈی ایس نے ہندوستان کو لے کر ایک سروے کروایا ہے ، جس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ لوگ دوست بناتے وقت ایک دوسرے کے مذہب کا کتنا خیال رکھتے ہیں۔ سروے کے مطابق دیگر مذہب کے لوگوں سے دوستی کرنے کے معاملہ میں ہندوؤں کی سوچ کافی تنگ ہے۔ صرف 33 فیصد ہندو ہی مسلمانوں کو اپنا قریبی دوست مانتے ہیں۔ جبکہ زیادہ تر مسلمانوں کی سوچ کافی اچھی ہے اور تقریبا 74 فیصد مسلمان ہندوؤں کو اپنا قریبی دوست سمجھتے ہیں۔

'سوسائٹی اینڈ پولیٹکس بٹون الیكشنز نامی ریسرچ کے مطابق لوگ اپنے اپنے مذہب کے لوگوں سے ہی دوستی کرنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ گجرات، ہریانہ، کرناٹک اور اڑیسہ میں صورتحال انتہائی خراب ہے۔ کیونکہ ان جگہوں پر مذہب کی بنیاد پر تقسیم کافی گہری ہے اور مسلمان اپنے الگ گروپوں میں رہنا پسند کرتے ہیں۔

سی ایس ڈی ایس کا سروے : ہندوستان میں صرف 33 فیصد ہندو مسلمانوں کو مانتے ہیں اپنا قریبی دوست

صرف 13 فیصد ہندو مانتے ہیں مسلمانوں کو سچا محب وطن

ریسرچ کے مطابق مذہب کی بنیاد پر حب الوطنی کا بھی تجزیہ کیا گیا۔ ملک بھر کے صرف 13 فیصد ہندو ہی ایسے ہیں ، جو مسلمانوں کو سچا محب وطن سمجھتے ہیں جبکہ 20 فیصد ہندو، عیسائیوں کو اور 47 فیصد سکھوں کو محب وطن سمجھتے ہیں۔ مسلمانوں کے تئیں ہندوؤں سے زیادہ اعتدال پسند رویہ عیسائیوں کا ہے۔ 26 فیصد عیسائی مسلمانوں کو سچا محب وطن سمجھتے ہیں۔ اس کے علاوہ 66 فیصد سکھ، ہندوؤں کو سچا محب وطن سمجھتے ہیں۔ اگر خود اپنی حب الوطنی کا اندازہ کرنا ہو تو 77 فیصد مسلمان خود کو سچا محب وطن سمجھتے ہیں۔ ہندوستان میں گزشتہ کافی وقت سے مذہب اور حب الوطنی کی بنیاد پر سیاست پروان چڑھتی جا رہی ہے۔ اس کا اثر باہمی تعلقات، ایک دوسرے کے تئیں رویے پر اور نوجوانوں کی سوچ پر بھی پڑ رہا ہے۔

صرف 6 فیصد ہندو اعتدال پسند سوچ کےحامل

ریسرچ میں کئی دیگر سوالات بھی پوچھے گئے ۔ جیسے، گائے کو لے کر کیا سزا ملنی چاہئے، یا ان لوگوں کے تئیں حکومت کا رویہ کیسا ہونا چاہئے جو قومی ترانہ پر کھڑے نہیں ہوتے، وندے ماترم نہیں گاتے یا گوشت کھاتے ہیں۔ اس طرح کے متعدد سوالات کی بنیاد پر لوگوں کے رویے کا نتیجہ اخذ کیا گیا ہے ۔ تقریبا 72 فیصد لوگوں کا نظریہ انتہائی سخت ہے، جبکہ 17 فیصد لوگ کم اعتدال پسند اور محض 6 فیصد لوگ اعتدال پسند سوچ کے حامل ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز