لشکر کے کشمیر چیف ابو اسماعیل کی ہلاکت کے بعد سری نگر کے پائین میں کرفیو جیسی پابندیاں ، تعلیمی ادارے بند

Sep 15, 2017 12:24 PM IST | Updated on: Sep 15, 2017 01:06 PM IST

سری نگر: لشکر طیبہ کے کشمیر چیف ابو اسماعیل اور اس کے ساتھی چھوٹا قاسم کی ہلاکت کے خلاف احتجاجی مظاہروں یا کسی ناخوشگوار واقعہ کو روکنے کے لئے گرمائی دارالحکومت سری نگر کے پائین شہر میں کرفیو جیسی پابندیاں نافذ کردی گئی ہیں۔ پائین شہر میں گذشتہ جمعہ 8 ستمبر کو بھی کرفیو جیسی پابندیاں نافذ کی گئی تھیں جن کی وجہ سری نگر کی تاریخی جامع مسجد میں نماز کی ادائیگی نہیں ہوسکی تھی۔ کشمیر کی تمام مذہبی جماعتوں نے گذشتہ جمعہ کو برما کے روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ یوم یکجہتی کے طور پر منانے اور برمی مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے کا اعلان کیا تھا۔

ابو اسماعیل کی ہلاکت کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر پائین شہر میں پابندیوں کا نفاذ عمل میں لانے کے علاوہ سری نگر کے تمام تعلیمی اداروں میں جمعہ کو درس وتدریس کی سرگرمیاں معطل رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ کشمیر یونیورسٹی نے جمعہ کو لئے جانے والے تمام امتحانات ملتوی کردیے ہیں۔ پائین شہر میں کرفیو جیسی پابندیوں کے سبب جمعہ کو تمام دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے۔ اس کے علاوہ سرکاری دفاتر اور بینکوں میں بھی معمول کا کام کاج بری طرح سے متاثر رہا۔

لشکر کے کشمیر چیف ابو اسماعیل کی ہلاکت کے بعد سری نگر کے پائین میں کرفیو جیسی پابندیاں ، تعلیمی ادارے بند

file photo

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ پائین شہر کے پانچ پولیس تھانوں نوہٹہ، ایم آر گنج، رعناواری، خانیار اور صفا کدل کے تحت آنے والے علاقوں میں احتیاطی اقدامات کے طور پر دفعہ 144 سی آر پی سی کے تحت پابندیاں نافذ کی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ضلع مجسٹریٹ سری نگر کے احکامات پر ان پابندیوں کا طلاق کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کو ٹالنے کے لئے عمل میں لایا گیاہے۔

تاہم انتظامیہ کے دفعہ 144 کے تحت پابندیوں کے اطلاق کے برخلاف پائین شہر کی صورتحال جمعہ کی صبح سے ہی بالکل مختلف نظر آئی۔ مقامی شہریوں نے بتایا کہ جمعہ کی صبح لوگوں کو یہ کہتے ہوئے اپنے گھروں تک ہی محدود رہنے کے لئے کہا گیا کہ علاقہ میں کرفیو کا نفاذ عمل میں لایا جاچکا ہے۔ پائین شہر میں پابندیوں کو سختی کے ساتھ نافذ کرنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی غیرمعمولی نفری تعینات کی گئی ہے۔ نوہٹہ میں واقع تاریخی جامع مسجد کے دروازوں کو ایک بار پھر مقفل کردیا گیا ہے جبکہ اس کے گردونواح میں سیکورٹی فورسز کی ایک بڑی تعداد کو تعینات کیا گیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز