تین طلاق معاملہ : اگلے چھ دن میں طے ہوگا اس کا مستقبل ، فریقین کوملیں گے تین تین دن

May 11, 2017 11:25 AM IST | Updated on: May 11, 2017 06:10 PM IST

نئی دہلی۔ عدلیہ کی تاریخ میں اگلے چھ دن تاریخی ہوں گے۔ تین طلاق جیسے سماجی مسائل پر بحث شروع ہو گئی ہے۔ کورٹ نے تین سوال اور چھ دن طے کئے ہیں جس کی بنیاد پر یہ طے ہوگا کہ اسے قانونی طور پر ختم کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ یہ پہلی بار ہے کہ جب اتنے بڑے معاملے پر سماعت کے لئے بنائی گئی آئینی بینچ میں پانچ مختلف مذاہب کے پانچ ججوں کو رکھا گیا ہے۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے پہلے کہا تھا کہ یہ انتہائی ضروری معاملہ ہے اور اس کی سماعت بغیر کسی چھٹی کے 11 سے 19 مئی تک ہوگی۔ کورٹ نے اس معاملے میں فریقوں کو اپنے جواب میں سوال دینے کے لئے کہا تھا جن پر سماعت کے دوران تبادلہ خیال ہو گا۔ اس جواب میں مرکزی حکومت کی جانب سے چار سوال پوچھے گئے تھے۔ آئیے جانتے ہیں تین طلاق سے منسلک تفصیلی معلومات۔

تین طلاق معاملہ : اگلے چھ دن میں طے ہوگا اس کا مستقبل ، فریقین کوملیں گے تین تین دن

file photo

سماعت کے لئے چھ دن مقرر

سپریم کورٹ نے سماعت کے لئے چھ دن طے کئے ۔ تین دن ان کے لئے جو ٹرپل طلاق کو چیلنج دے رہے ہیں اور تین دن ان کے لئے جو اس کا دفاع کر رہے ہیں۔سپریم کورٹ نے یہ صاف کر دیا کہ کیس سے منسلک متعدد فریقوں کو بینچ کی طرف سے مقرر کئے گئے دو سوالوں پر جرح کرنے کے لئے دو دو دن ملیں گے۔ عدالت نے یہ بھی صاف کر دیا کہ دلیلوں کو دہرائے جانے پر وہ وکلاء کو روک دے گی۔

کورٹ نے کہا کہ ہر فریق جو بھی دلیل دینا چاہے، دے سکتا ہے لیکن کسی طرح کا دہراو نہیں ہونا چاہئے۔ وکلاء کو ٹرپل طلاق کی قانونی حیثیت کے موضوع پر توجہ مرکوز کرنا ضروری ہے۔

سپریم کورٹ میں ہر روز سماعت

ملک کے سب سے زیادہ پیچیدہ سماجی مسائل میں سے ایک تین طلاق پر سپریم کورٹ کی آئینی بینچ میں سماعت شروع ہو گئی ہے۔کورٹ نے اس معاملے کو انتہائی سنگین مانتے ہوئے روز سماعت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

آئینی بینچ میں 5 مختلف مذاہب کے ہیں جج

چیف جسٹس جے ایس كھیہر (سکھ)۔

جسٹس کورین جوزف (عیسائی)۔

جسٹس روہنگٹن پھلی نریمن (پارسی)۔

جسٹس ادے امیش للت (ہندو)۔

جسٹس ایس. عبد النذیر (مسلم)۔

بینچ کی مدد کرنے کے لئے اٹارنی جنرل مکل روہتگی سماعت کے دوران موجود رہیں گے۔

صرف تین طلاق پر ہوگی سماعت ، تعدد ازدواج پر نہیں 

سپریم کورٹ میں تین طلاق سے متعلق عرضیوں کی سماعت شروع ہو گئی ہے۔ عدالت نے صاف کر دیا ہے کہ وہ صرف تین طلاق پر ہی فیصلہ دے گی، ایک سے زیادہ شادیوں پر نہیں۔ حالانکہ کورٹ نے یہ ضرور کہا کہ تین طلاق پر سماعت کے دوران اگر ضرورت پڑی تو نکاح حلالہ پر بھی چرچا کی جا سکتی ہے۔

آئینی بینچ جو تین طلاق پر سماعت کر رہی ہے اس میں شامل پانچوں جج سکھ، عیسائی، پارسی، ہندو اور مسلم کمیونٹیز کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ایک ہفتے پہلے سینئر وکیل اور سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید کو اس معاملے میں کورٹ کی مدد کے لئے امكس کیوری مقرر کیا گیا تھا۔ اب سپریم کورٹ نے آئینی بینچ تشکیل دے دی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز