ہندوستان اور چين کو ڈوکلام کا تناز‏ع جنگ سے نہیں ، بات چیت سے حل کرنا چاہئے : دلائی لامہ

Aug 09, 2017 10:40 PM IST | Updated on: Aug 09, 2017 10:41 PM IST

نئی دہلی: ڈوكلام سرحدی تنازعے پر چین کی جانب سے جنگ کے بیانات کے درمیان تبتیوں کے روحانی پیشوا دلائی لامہ نے آج کہا کہ ہندوستان اور چین کو ڈوكلام تنازعہ سمیت تمام مسائل کا حل بات چیت سے نکالنا چاہیے۔ دلائی لامہ نے یہاں راجندر ماتھر میموریل لیکچرمیں اپنے خطاب کے بعد ایک سوال کے جواب میں امید ظاہر کی کہ کوئی بھی فریق جنگ شروع نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ"کبھی کبھی بہت شور ہوتا ہے اور سخت الفاظ کہے جاتے ہیں لیکن میں نہیں سوچتا کہ یہ بہت سنگین صورتحال ہے"۔

ڈوكلام تنازعہ پرایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں فریقوں کے پاس ایک دوسرے کو مٹا دینے کی طاقت ہے، اس لئے انہیں نہیں لگتا کہ دونوں فریق جنگ چاہتے ہیں۔انہوں نے 1962 کی جنگ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جنگ کے بعد چین کو جیتی گئی اراضی سے پیچھے ہٹنا پڑا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مسائل کوبات چیت کے ذریعے ہی حل کئے جانے کی ضرورت ہے تاکہ یہ صدی پرامن گزرے۔

ہندوستان اور چين کو ڈوکلام کا تناز‏ع جنگ سے نہیں ، بات چیت سے حل کرنا چاہئے : دلائی لامہ

تبتی مذہبی رہنما نے کہا کہ فتح اور شکست قدیم سوچ ہے، جو موجودہ منظر نامہ میں غیر متعلقہ ہو چکی ہے۔ ہندوستان اور چین دونوں بنیادی طورپر اور تاریخی ناحیے سے پڑوسی ہیں اور چین کے لوگوں میں ہندوستان کے خلاف کوئی منفی تاثر نہیں ہے۔ اگرچہ حکومت کبھی کبھی اطلاعات میں دھاندلی کرتی رہتی ہے۔ لیکن حکومتیں بدلتی رہتیں ہیں، مگر لوگ نہیں بدلتے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ حکومت ہند چینی طلبہ کو ہندوستان میں پڑھنے کے لئے زیادہ سہولت دے اور چینی بودھ راہبوں کو آنے کی چھوٹ دے۔ اس سے ان میں ہندوستان کے لوگوں کے تئیں بہتر اور مثبت سوچ پیدا ہوگی۔

دلائی لامہ نے اپنے خطاب میں ہندوستانی جمہوریت اور پریس کی آزادی کی کئی بار تعریف کی اور ملک کی تعمیر میں اولین وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کی شراکت کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہندوستان دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا جمہوری ملک ہے۔ یہ ملک ہزاروں سال پرانی عدم تشدد کی روایت کے ساتھ بہت مستحکم اور پرامن ہے۔ آج ہندوستان ہی ایسا واحد ملک ہے، جہاں دنیا بھر کی اہم روایتیں بقائے باہمی کے جذبے سے زندہ ہیں۔

تبتی مذہبی رہنما نے چین کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ تبتی ایک چھوٹی کمیونٹی ہے لیکن ان میں مضبوط جمہوری روایات پیدا ہو گئی ہیں اور وہ اس راستے پر چل رہے ہیں جو ان سے بڑے چین کے مقابلے میں زیادہ اعلی درجے کا ہے۔ انہوں نے ایک جمہوری ملک میں ایمانداری اور غیر جانبداری سے حق کو سامنے لانے کی میڈيا کی ذمہ داری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی پریس اس طور پر مکمل آزاد ہے، جو بہت اچھی بات ہے۔

دلائی لامہ نے اس خیال سے اختلاف ظاہر کیا کہ میڈیا سنسنی خیز اور منفی ہے۔ انہوں نے میڈیا کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی تحریر سے لوگوں کا اعتماد مضبوط کریں۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وہ تبت لوٹنا چاہتے ہیں، انہوں نے کہا کہ یہ کہنا بہت جلد بازی ہے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ وہ ہندوستان کی اولاد ہیں اور ایسے کسی مقام پر نہیں جانا چاہتے ہیں، جہاں کوئی آزادی نہیں ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز