ہم شادی رجسٹریشن کے خلاف نہیں ، لیکن ایسا نہ کرنے والوں کو سرکاری سہولیات سے محروم رکھنے کا فیصلہ غلط : دار العلوم دیوبند

Aug 03, 2017 06:54 PM IST | Updated on: Aug 03, 2017 06:54 PM IST

سہارنپور : ایشیا کی معروف دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند نے شادی کے رجسٹریشن کو لازمی بنائے جانے کی شدید مخالفت کی ہے اور اس کو مذہبی آزادی کے خلاف قرار دیا ہے۔ دارالعلوم دیوبند اور دیگر علما کا کہنا ہے کہ ہم شادی کے رجسٹریشن کے خلاف نہیں ہیں، لیکن ایسا نہ کرنے والوں کو سرکاری سہولیات سے محروم رکھنے کا فرمان غلط ہے۔

دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی بنارسی نے کہا ہے کہ شادی کے رجسٹریشن کو جبرا نافذ کرنا مذہبی آزادی کے خلاف ہے ۔ مذہبی طور پر شادی صرف نکاح کرنے سے ہو جاتی ہے۔ یہ کہنا کہ اگر رجسٹریشن نہیں کرایا جائے گا تو سرکاری سہولیات سے محروم کر دیا جائے گا، یہ براہ راست ہراساں کرنے والا فیصلہ ہے۔

ہم شادی رجسٹریشن کے خلاف نہیں ، لیکن ایسا نہ کرنے والوں کو سرکاری سہولیات سے محروم رکھنے کا فیصلہ غلط : دار العلوم دیوبند

انہوں نے کہا کہ قانون اس طرح ہونا چاہئے کہ اگر کوئی اپنی مرضی سے رجسٹریشن کروانا چاہے تو کرواسکتا ہے ... زور زبردستی ضروری نہیں۔ انہوں نے کہا کہ نکاح نامہ اپنے آپ میں ہی شادی رجسٹریشن ہے۔ یہ دو گواہوں کے ساتھ تیار کیا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ یوگی حکومت نے شادی رجسٹریشن کو لازمی قرار دیا ہے ، جس کی رو سے اب اترپردیش میں مسلم سمیت تمام طبقات کیلئے شادی رجسٹریشن کرانا لازمی ہوگیا ہے ۔شادی کا رجسٹریشن صرف 10 روپے میں ہو گا اور جو اپنی شادی کا رجسٹریشن نہیں کروائے گا اسے سرکاری سہولیات کا فائدہ نہیں ملے گا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز