گئو رکشا کے نام پر غنڈہ گردی کرنے والوں کے خلاف راجیہ سبھا میں سخت کارروائی کا مطالبہ

Jul 20, 2017 09:14 PM IST | Updated on: Jul 20, 2017 09:14 PM IST

نئی دہلی۔ گؤ رکشا کے نام پر غنڈہ گردی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے راجیہ سبھا میں آج اپوزیشن نے کہاکہ ملک کی معیشت کی حالت ابتر ہوتی جا رہی ہے اور زراعت، سرمایہ کاری اور کاروبار کا ماحول خراب ہو رہا ہے۔ ’ملک بھر میں اقلیتوں اور دلتوں کا پیٹ پیٹ کر قتل اور ان پر مظالم کے واقعات میں مبینہ اضافہ سے پیدا شدہ صورتحال‘ پر مختصر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کانگریس کے کپِل سبل نے کہا کہ ملک میں گؤرکشا اور مذہب کے نام پر اقلیتوں، دلتوں، قبائلیوں اور پسماندہ طبقوں کے لوگوں کا قتل ہو رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایسی تصاویر دکھائی جا رہی ہیں، جو بھیانک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کچھ برسوں میں بھیڑ کے ذریعہ قتل کے معاملوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نریندرمودی کی تقاریر سے ماحول خراب ہو رہا ہے۔ سماج میں خوف پیدا ہو رہا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم کی کئی سابقہ تقاریر کا ذکر کیا۔ اس پر پارلیمانی امور کے وزیر مملکت مختار عباس نقوی نے ان تقاریر کی معتبریت ثابت کرنے کا مطالبہ کیا۔ مسٹر نقوی نے کہا کہ مسٹر سبل کے بیان سے ان تنظیموں کے نام نکال دینے چاہئے، جو ایوان میں موجود نہیں ہیں۔ ڈپٹی چیئرمین پی جے کوریئن نے کہا کہ وہ معاملے کو دیکھیں گے اور ضروری ہوا تو کارروائی سے نکال دیں گے۔ مسٹر سبل نے کہا کہ تشدد کے ماحول سے ملک میں سرمایہ کاری کا ماحول بگڑ رہا ہے۔ کاروبار مندہ ہو رہا ہے۔ چمڑا صنعت کی حالت خراب ہے اور برآمد میں کمی آئی ہے۔ اس سے کافی غیرملکی کرنسی حاصل ہوتی ہے۔

گئو رکشا کے نام پر غنڈہ گردی کرنے والوں کے خلاف راجیہ سبھا میں سخت کارروائی کا مطالبہ

پارلیمنٹ، فائل فوٹو: پی ٹی آئی

جنتا دل (یونائٹیڈ) کے شرد یادو نے کہاکہ ملک خانہ جنگی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ حکومت اقلیتوں ، دلتوں، قبائلیوں اور خواتین کی حفاظت کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔ کسان خودکشی کر رہےہیں۔ گؤ رکشا کے نام پر مویشیوں کا لین دین بند ہو رہا ہے۔ معیشت کی بنیاد کسان ہیں اور کسان کی معیشت کھیتی اور مویشیوں سے چلتی ہے۔ نوٹ بندی کے بعد سے کھیتی ختم ہوگئی۔ مویشیوں کی خرید و فروخت پر پابندی لگنے سے ان کی آمدنی بھی ختم ہوگئی۔ ملک میں تشدد اور خوف کا ماحول ہے جس سے سرماریہ کاری رک رہی ہے۔ کاروبار ختم ہو رہا ہے اور بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے سہارنپور تشدد کے متاثرین کے ساتھ انصاف کرنے کو کہا۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کو وہاں کی حالت جاننے کیلئے دورہ کرنا چاہئے۔ دلت خواتین کے ساتھ بہت بُرا برتاؤ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون کو کچلا جا رہا ہے ۔ حکومت کو دھیان رکھنا چاہئے کہ سیاست اور مذہب کا توازن بگڑنے سے بڑی گڑبڑی پیدا ہوتی ہے۔ پاکستان، افغانستان، عراق اور شام اس کی مثالیں ہیں۔

کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے ڈی راجا نے کہاکہ پارلیمنٹ ’بھیڑ کے ذریعہ قتل‘ جیسے معاملے پر بحث کر رہی ہے، یہ شرم کی بات ہے۔ زندگی کا اختیار پارلیمنٹ نہیں بلکہ آئین دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’آئین کو صحیح جذبہ کے ساتھ نافذ کرنے میں ہم ناکام رہے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ منو وادی فسطائیت ہے اور یہ خطرناک ہے۔ اس کا متحد ہو کر سامنا کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سے قبل بحث شروع کرتے ہوئے شرومنی اکالی دل کے نریش گجرال نے کہا کہ قتل کے واقعات کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہئے۔ ان واقعات پر سماج کو غور و خوض کی ضرورت ہے۔ ایسے واقعات پورے ملک میں ہو رہے ہیں اور سیاسی پارٹیاں الزام اور جوابی الزام میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گنگا جمنی تہذیب ہندستان کی خصوصیت رہی ہے اور اس کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری تمام لوگوں کی ہے۔ ایک جانب سماج میں رواداری اور تحمل و برداشت کے جذبہ کو فروغ دینے کی ضرورت ہے تو دوسری جانب، گؤ رکشا، مذہب یا ذات کےنام پر غنڈہ گردی کرنے والوں کو سخت سے سخت سزا دی جانی چاہئے۔ ایسے معاملوں سے نمٹنے کیلئے خصوصی عدالتیں بنائی جانی چاہئیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز