اردو کسی مذہب کی نہیں بلکہ دلوں کو ملانے کی زبان : منیش سسودیا

Jul 28, 2017 08:40 PM IST | Updated on: Jul 28, 2017 08:40 PM IST

نئی دہلی: اردو زبان محبتوں کی زبان ہے ۔ دنیا میں جہاں جہاں محبت کرنے والے ہیں وہاں وہاں اردو زبان بولی، سمجھی اور پڑھتی جاتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا نے اردو اکادمی ، دہلی کے زیر اہتمام دہلی کے مختلف علاقوں میں جاری اردو خواندگی مراکز کے افتتاح کے موقع پر کیا۔

انھوں نے کہا کہ یہ کورس اور بہتر نتائج سامنے لائے تو ہمیں اور اردو اکادمی کو خوشی ہوگی۔ مجھے شروع سے ہی زبانوں سے لگاؤ رہا ہے اور اردو میرے خمیر میں رچی بسی ہوئی ہے۔انھوں نے کہا کہ میں اردو اکادمی کو مزید بہتری کی طرف دیکھنا چاہتا ہوں جس کے لیے میرا تعاون جاری رہے گا۔ انھوں نے متحرک اور فعال وائس چیئرمین ڈاکٹر ماجدؔ دیوبندی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ اردو کے لیے جو کچھ کررہے ہیں وہ لائقِ تحسین ہے لیکن اکادمی کے کاموں اور اردو کے فروغ میں مزید بہتری لانے کے لیے ابھی اور بہت کچھ کرنا ہے جس کے لیے دہلی سرکار ہمہ وقت حاضر ہے۔

اردو کسی مذہب کی نہیں بلکہ دلوں کو ملانے کی زبان : منیش سسودیا

تقریب کے آغاز میں استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے اکادمی کے وائس چیئرمین ڈاکٹر ماجد دیوبندی نے نائب وزیر اعلیٰ کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ اپنی بے پناہ مصروفیات کے باوجود انھوں نے اکادمی میں تشریف لاکر ہم سب کی جو عزت افزائی کی ہے اس کے لیے وہ ان کے ممنون ہیں۔ انھوں نے کہا کہ دوسال کے مختصر سے عرصے میں انھوں نے اپنی وائس چیئرمین شپ کے دوران جو کام کیے وہ ان کے بہتر اردو کے فروغ میں کوشش کرنے کے ان کے مزاج کا حصہ ہے اور وہ یہ کوشش جاری رکھیں گے۔

ڈاکٹر ماجد دیوبندی نے دوسال کے دوران اردو کے فروغ کے لیے کیے گئے کاموں کا ذکر کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ کی خدمت میں ہدیۂ تہنیت پیش کیا اور کہا کہ وزیراعلیٰ اروند کیجریوال اور نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا کی سرپرستی اور اردو کے تئیں خلوص کے جذبے کے بغیر یہ کام ناممکن تھا۔ انھوں نے کہا کہ زبانیں دلوں کو جوڑتی ہیں اور اردو دلوں کو قریب لانے میں اہم ترین کردار ادا کرتی آئی ہے۔ ڈاکٹر ماجد دیوبندی نے کہا کہ آج کے ماحول میں جہاں لوگ اردو کو مسلمان اور ہندی کو ہندو بنانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں وہیں ہماری یہ ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے کہ امن و آشتی اور یکجہتی کے پیغام کو عام کریں جو آج کی اہم ترین ضرورت ہے۔

اس موقع پردہلی کے مختلف علاقوں میں قائم 121مراکز کے انسٹرکٹرز کو نائب وزیر اعلیٰ اوراکادمی کے وائس چیئرمین کے ہاتھوں اسٹیشنری وغیرہ تقسیم کی گئیں۔ تقریب کے آغاز میں ڈاکٹر ماجد دیوبندی نے نائب وزیر اعلیٰ کی خدمت میں پھولوں کا گلدستہ پیش کرکے ان کا استقبال کیا اور انھیں دیوانِ غالب کی ایک جلد اور ماہنامہ ایوانِ اردو اور امنگ کے تازہ شمارے پیش کیے جب کہ سکریٹری اردو اکادمی ایس ۔ایم۔ علی نے مہمانوں اور شرکا کا شکریہ ادا کیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز