کیجریوال حکومت کا ٹیکس فری بجٹ، نیپكنس، گرینائٹ اور پلائی وڈ سستی

Mar 08, 2017 09:46 PM IST | Updated on: Mar 08, 2017 09:46 PM IST

نئی دہلی: دہلی حکومت کے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کسی قسم کا نیا ٹیکس نہ لگانے کے ساتھ ہی تعلیم، صحت اور ٹرانسپورٹ پر زور دیتے ہوئے نیپكنس، ماربل، پلائی وڈ اور طیارہ ایندھن کو سستا کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ نائب وزیر اعلی اور وزیر خزانہ منیش سسودیا نے آج اسمبلی میں عام آدمی پارٹی (آپ) کی حکومت کا تیسرا بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ دارالحکومت کو کھلی جگہوں پر رفع حاجت سے پاک کرنے، خواتین کے تحفظ اور لوگوں کو پینے کے صاف پانی اور صفائی کی بہتر سہولت مہیا کرانے کے اقدامات کئے گئے ہیں۔

اپریل میں ممکنہ کارپوریشن انتخابات کے پیش نظر مقامی اداروں کو دی جانے والی مالی امداد کو تقریباً ایک فیصد بڑھا کر 7571 کروڑ روپے کئے جانے کی تجویز ہے۔یہ کُل بجٹ رقم کا 15.8 فیصد ہے جو رواں مالی سال میں ترمیمی تخمینے میں 14.9 فیصد تھا۔مقامی اداروں کو دی جانے والی کُل رقم میں سے 3343 کروڑ روپے ٹیکس وصولی میں حصہ داری، 1810 کروڑ روپے اسٹامپ اور رجسٹریشن فیس اور یکمشت پارکنگ فیس میں حصہ داری ہے۔شمالی اور مشرقی دہلی میونسپل کارپوریشن کو 700 کروڑ روپے کی رقم تنخواہ اور دیگر مد میں پیشگی کے طور پر دی گئی ہے۔

کیجریوال حکومت کا ٹیکس فری بجٹ، نیپكنس، گرینائٹ اور پلائی وڈ سستی

آئندہ مالی سال کیلئے 48 ہزار کروڑ روپے کا بجٹ کا پیش کرتے ہوئے مسٹر سسودیا نے کہا کہ دہلی ملک کی پہلی ایسی ریاست بن گئی ہے جہاں نتیجہ بخش بجٹ کی سمت میں قدم اٹھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں منصوبہ بندی اور نامنصوبہ بندی کی روایت کو ختم کیا گیا ہے۔ بجٹ رقم 17۔2016 کے ترمیمی تخمینہ 41200 کروڑ روپے کے مقابلے میں 16.5 فیصد زیادہ ہے۔ نائب وزیر اعلی نے بجٹ کو عام لوگوں کے لئے وقف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عام لوگوں کی سوچ پر مبنی بجٹ ہے۔بچوں کو بہتر تعلیم، لوگوں کو اچھی صحت خدمات، بجلی کی سہولت، پانی، سوشل سیکورٹی اور پبلک ٹرانسپورٹ کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ دارالحکومت کو آلودگی سے پاک کرنے کیلئے بھی سخت قدم اٹھائے گئے ہیں۔

مسٹر سسودیا نے کہا کہ آپ حکومت ملک کی پہلی ایسی حکومت ہے جس نے کُل بجٹ کی سب سے زیادہ رقم تعلیم کے لئے مختص کی ہے۔ بجٹ کی 24 فیصد یعنی 11 ہزار 300 کروڑ روپے تعلیم کے لیے رکھے گئے ہیں۔طب اور صحت عامہ کی مد میں 12 فیصد یعنی پانچ ہزار 736 کروڑ روپے اور نقل و حمل کی مد میں 11 فیصد یعنی 5506 کروڑ روپے کا انتظام کیا گیا ہے۔ بجٹ میں خواتین کی صحت کے پیش نظر 20 روپے سے زیادہ قیمت والے سینیٹری نیپكنس پر ٹیکس کی شرح ساڑھے 12 فیصد سے کم کرکے پانچ فیصد کئے جانے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ فی الحال 20 روپے قیمت تک کے سینیٹری نیپكنس پر کوئی ٹیکس نہیں لگتا ہے۔ لیمینیٹس، پلائی وڈ اور بلیک بورڈ، ایم ڈی ایف بورڈ اور پارٹیکل بورڈ پر ٹیکس کی شرح 12.5 سے کم کرکے پانچ فیصد کی گئی ہے۔ سنگ مرمر کی طرح گرینائٹ، دیسی کوٹہ، دھول پور پتھر اور گوالیار اسٹور سلیٹ پر بھی ٹیکس 12.5 سے کم کرکے پانچ فیصد کر دیا گیا ہے۔

مسٹر سسودیا نے بتایا ہے کہ بالخصوص شمال مشرقی ریاستوں کو دہلی ایئر لائنز سے منسلک کرنے کے لئے علاقائی رابطہ منصوبہ (آرسی ایس) کے تحت ہوائی جہاز کے ایندھن پر وی اے ٹی کی شرح 24 فیصد سے کم کرکے ایک فیصد کئے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ معمر افراد کیلئے کمیشن بنانے کا اعلان کرتے ہوئے سینئر شہریوں، معذور افراد اور بیواؤں کی فلاح و بہبود کیلئے 1595 کروڑ روپے کی مالی امداد کا بندوبست کیا گیا ہے۔

مسٹر سسودیا نے کہا کہ آئندہ مالی سال میں کل بجٹ کی 80 فیصد رقم 38700 کروڑ روپے ٹیکس آمدنی سے ملنے کا اندازہ ہے۔ اس کے علاوہ 2856 کروڑ روپے مختصر بچتوں، 2528 کروڑ روپے سرپلس کے طور پر، 1500 کروڑ روپے مرکز اسپانسر منصوبہ بندی، 800 کروڑ روپے غیر ٹیکس وصولی، 478 کروڑ روپے دیگر وصولی، 413 کروڑ روپے مرکز سے عام تعاون، 400 کروڑ روپے سرمایہ وصولی اور 325 کروڑ روپے مرکزی ٹیکس سے حصے کے طور پر جمع کرنے کا ہدف ہے۔ آئندہ مالی سال میں 4259 کروڑ روپے مالی اور انتظامی خدمات، 3467 کروڑ روپے سماجی تحفظ اور فلاح و بہبود، 3113 کروڑ روپے شہری ترقی، 3006 کروڑ روپے سود ادائیگی، 2194 کروڑ روپے توانائی، 2108 کروڑ روپے پانی کی فراہمی اور صفائی ستھرائی، 1682 کروڑ روپے مرکزی حکومت کے قرض کی ادائیگی اور 1163 کروڑ روپے مقامی اداروں کو معاوضے کے طور پر دیئے جانے کی تجویز ہے۔اس کے علاوہ 4467 کروڑ روپے دیگر اشیاء میں خرچ کئے جائیں گے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ آئندہ مالی سال میں 24 نئے اسکول اور 10 ہزار نئے کلاس کمروں کی تعمیر کا منصوبہ ہے۔ڈھانچہ جاتی سہولیات کو بہتر بناکر آئندہ مالی سال میں 156 سرکاری اسکولوں میں پری پرائمری کلاسیں شروع کی جائیں گی۔ دارالحکومت کے تمام شعبوں میں 2 سے 6 سال کی عمر کے بچوں کے لئے ابتدائی تعلیم مراکز کھولے جائیں گے۔نرسری سے پانچویں کلاس تک کے بچوں کیلئے کلاسوں میں ہی خاص لائبریری کھولنے کے ساتھ ہی چھٹی سے دسویں تک طالب علموں کے لئے 400 نئی لائبریری کھولی جائیں گی۔ روہنی میں 2000 طالب علموں والا شہید سکھ دیو کالج کی تعمیر اس سال جون میں مکمل کر لی جائے گی۔ کھلاڑیوں کے لئے جدید سہولیات سے لیس دو کثیر المنزلہ ہوسٹل بنائے جائیں گے۔ ان میں 2350 کھلاڑیوں کے رہنے کی سہولت ہوگی۔ کھلاڑیوں کو خصوصی تربیت دینے کے لیے جسمانی اور کھیل تربیت کے 110 اضافی عہدوں پر تقرری کی جائے گی۔

حکومت کے ایک ہزار محلہ کلینک کھولنے کے ہدف کو آئندہ مالی سال میں حاصل کرنے کی امید ظاہر کرتے ہوئے مسٹر سسودیا نے کہا کہ ابھی ان کی تعداد 110 ہے۔ رواں مالی سال کے آخر تک 150 تک پہنچ جائے گی۔ پالي كلنكوں کی تعداد 23 سے بڑھا کر 150 کی جائے گی۔ اگلے 18 ماہ میں حکومت کے تمام ہسپتالوں میں بستروں کی تعداد 10 ہزار سے بڑھا کر 20 ہزار کی جائے گی۔ دارالحکومت کے تمام شہریوں کو صحت کارڈ اور صحت کی انشورنس فراہم کرنے کی منصوبہ بندی پر بھی کام کیا جا رہا ہے۔

آئندہ مالی سال میں عوامی نقل و حمل کو مضبوط بنانے کیلئے كلسٹر بس منصوبہ بندی کے تحت 736 بسوں کو شامل کرنے کی تجویز ہے۔ دس ہزار نئے آٹو پرمٹ جاری کئے جائیں گے۔ بنیادی خدمات کو بہتر بنانے کے لیے متھرا روڈ پر آشرم چوک کے قریب انڈر پاس کام آئندہ مالی سال میں شروع کر دیا جائے گا۔آئی ٹی او پر پیدل مسافروں کی حفاظت کے لئے سكندراروڈ، متھرا روڈ، تلك مارگ اور بہادر شاہ ظفر مارگ کے جنکشن پر ’ڈبلیو‘ پوائنٹ کے نزدیک اور ہنس بھون کے نزدیک اسكائی واك اور فٹ اوور برج بنانے کی تجویز ہے۔

آئندہ مالی سال کے دوران پوری دہلی میں پانی کی پائپ لائنوں کے بچھانے کے ہدف کا اعلان کرتے ہوئے مسٹر سسودیا نے کہا کہ دارالحکومت کو کھلے میں رفع حاجت کے رواج سے نجات دلانے کیلئے کئی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔حکومت 8000 جدید ٹوائلٹ بنا چکی ہے۔اس سال جون تک 6000 اور ٹوائلٹ بنا دیے جائیں گے۔حکومت کا 19000 ٹوائلٹ بنانے کا ہدف ہے۔

مسٹر سسودیا نے کہاکہ دارالحکومت میں توانائی کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے مقصد سے شمسی توانائی پر خصوصی زور دیا جا رہا ہے۔اگلے پانچ برسوں میں شمسی توانائی کی صلاحیت ایک ہزار میگاواٹ اور 2025 تک دو ہزار میگاواٹ کئے جانے کا ہدف ہے۔ ٹھوس کچرے کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے تین مقامات پر اس سے بجلی بنانے کا منصوبہ ہے۔آئندہ مالی سال میں آلودگی کی نگرانی مراکز کی تعداد چھ سے بڑھا کر 26 کرنے کی تجویز ہے۔

دہلی دیہی ترقی بورڈ کا دائرہ بڑھا کر اس میں دیہی اور شہری دونوں ہی طرح کے دیہاتوں کو شامل کیا جائے گا۔بورڈ کے لیے 600 کروڑ روپے کا بجٹ رکھا گیا ہے۔دارالحکومت میں پوروانچل کے لوگوں کی آبادی اور ان کے اہم تہوار چھٹھ کیلئے پوری دہلی میں گھاٹ بنائے جائیں گے۔اس کیلئے 20 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ دریں اثنا مسٹر سسودیا نے کہاکہ مرکزی حکومت کی جانب سے 500 اور ہزار روپئے کے نوٹوں کی منسوخی سے گزشتہ چار ماہ میں معیشت کی رفتار سست ہوئی ہے اور آئندہ مالی سال میں اس کا اثر ظاہر ہوگا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز