پٹرول - ڈیژل کی قیمتوں میں اضافہ پردہلی ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت کو بھیجا نوٹس

عدالت نے نوٹس جاری کرکے جواب طلب کیا ہے اورمعاملے کی آئندہ سماعت 16 نومبرکومقررکی گئی ہے۔

Sep 12, 2018 12:52 PM IST | Updated on: Sep 12, 2018 12:53 PM IST

دہلی ہائی کورٹ نے بدھ کو پٹرول - ڈیژل کی قیمتوں میں اضافہ کو لے کرایک مفاد عامہ کی عرضی پرسماعت کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے۔ کورٹ نے مرکز سے قیمتوں میں اضافہ ہونے سے متعلق جواب طلب کیا ہے اورمعاملے کی آئندہ سماعت 16 نومبرکومقررکی ہے۔

عدالت نےعرضی گزارسے بھی کہا ہے کہ 4 ہفتے کے اندروہ مرکزی حکومت کو پرزنٹیشن دیں اوربتائیں کہ کیسے پٹرول - ڈیژل کی قیمتوں میں کمی آسکتی ہے۔ حالانکہ ہائی کورٹ نے یہ بھی کہا کہ پٹرول - ڈیژل کی قیمت حکومت کی پالیسی کا حصہ ہیں۔ کیسے اس پرعدالت حکم دے سکتی ہے، لہٰذا 16 نومبرتک عرضی گزاراورمرکزی حکومت اس بابت جواب دائر کریں۔

پٹرول - ڈیژل کی قیمتوں میں اضافہ پردہلی ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت کو بھیجا نوٹس

Loading...

اس عرضی میں اسینشیل کموڈٹیزایکٹ 1955 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ مرکزی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ضروری اشیا کو مناسب قیمتوں پرعام لوگوں تک پہنچائیں۔ گزشتہ دنوں مسلسل پٹرول - ڈیژل کی قیمتوں کے متعلق عدالت سے گہارلگائی گئی ہے کہ وہ مرکزکو فوری حکم دیں، جس سے عام لوگوں کو کچھ راحت مل سکے۔

عرضی میں کہا گیا ہے کہ تیل کمپنیاں فی الحال جس قیمت پرپٹرول اورڈیژل فروخت کررہی ہیں، وہ سیدھے طور پراسینشیل کموڈیٹیزایکٹ 1955 کے سیکشن 3 (1) کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اس کے لئے تیل کمپنیوں پر جرمانہ بھی لگایا جانا چاہئے۔

یہ بھی پڑھیں:    ایکسکلوزیو انٹرویو : خام تیل کی قیمتیں آرام دہ سطح سے باہر ، مہنگائی میں ہوگا اضافہ : وزیر خزانہ ارون جیٹلی

یہ بھی پڑھیں:   بھارت بند میں شامل پارٹیوں کے لیڈروں نے گاندھی کی سمادھی پر گلہائے عقیدت پیش کئے

یہ بھی پڑھیں:   پٹرول- ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر بی جے پی نے اختیار کی خاموشی

 

 

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز