شرد یادو گروپ کی عرضی پر دہلی ہائی کورٹ کا الیکشن کمیشن اور وزیر اعلی نتیش کمار کو نوٹس

Dec 07, 2017 06:25 PM IST | Updated on: Dec 07, 2017 06:25 PM IST

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کے ذریعہ نتیش کمار کی قیادت والی جنتا دل (یو) کو انتخابی نشان (تیر) دینے کے خلاف دائر ایک پٹیشن پر آج الیکشن کمیشن اور مسٹر نتیش کمار سے جواب طلب کیا ہے۔ جسٹس اندرمیت کور نے شرد یادو گروپ کے جنرل سکریٹری جاوید رضا کی پٹیشن کی شنوائی کے دوران الیکشن کمیشن اور مسٹر کمار کو نوٹس جاری کرکے جواب دینے کو کہا ہے۔ عدالت نے جواب کے لئے 19 فروری 2018 کا وقت مقرر کیا ہے۔مسٹررضاکی طرف سے سینئر وکیل کپل سبل نے پیروی کی جبکہ مسٹر کمار کی جانب سے سینئر وکیل گوپال سنگھ پیش ہوئے۔

شرد گروپ نے خود کو اصلی جنتا دل یو بتاتے ہوئے الیکشن کمیشن سے ’تیر‘ کا انتخابی نشان دینے کی مانگ کی تھی۔ ان کا کہناتھا کہ مسٹر نتیش کمار نے بہار میں مہاگٹھ بندھن سے الگ ہوکر بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ سرکار بناکر پارٹی کے اصول کی خلاف ورزی کی ہے اور ایک طرح سے وہ خود پارٹی سے الگ ہوگئے ہیں۔الیکشن کمیشن نے دونوں فریقوں کی دلیل سننےاور دستاویز جمع کرانے کے بعد 25 نومبر کو مسٹر نتیش کمار کی قیادت والے کو اصلی جنتا دل یو قرار دیتے ہوئے اسے تیر کا انتخابی نشان برقرار رکھنے کا حکم جاری کیا تھا۔

شرد یادو گروپ کی عرضی پر دہلی ہائی کورٹ کا الیکشن کمیشن اور وزیر اعلی نتیش کمار کو نوٹس

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز