داڑھی رکھنے پر مسلم فوجی کی معطلی کے خلاف دہلی ہائی کورٹ کا اسٹے: مولانا ارشد مدنی کا اظہار اطمینان

Jul 29, 2017 08:05 PM IST | Updated on: Jul 29, 2017 08:05 PM IST

نئی دہلی۔  ہندوستانی فوج کے آرمس فورس شعبہ میں گزشتہ 12سال سے ملک کی خدمت انجام دینے والے ایک مسلم فوجی جوان کو آج اس وقت ایک بڑی راحت مل گئی جب جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے داخل پٹیشن پر سماعت کرتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ نے ٹریبونل کے اس فیصلہ پر فوری روک لگاتے ہوئے اسٹے جاری کر دیا جس کے تحت کمانڈنگ آفیسر نے آرمس فورس ٹریبونل کے حکم کے مطابق داڑھی رکھنے کی پاداش میں مسلم جوان کا کورٹ مارشل کرکے اسے سروس سے معطل کرنے کی کاروائی شروع کردی تھی۔ آندھرا پردیش کے گنتور ضلع کے خواجہ معین الدین پاشانامی فوجی جو فی الحال اترا کھنڈ میں تعینات ہیں، نے 2011میں کمانڈگ آفیسر سے اجازت طلب کرکے داڑھی رکھنا شروع کیا تھا لیکن 2014میں اس کی کولکتہ پوسٹنگ کے وقت اچانک اس کے کمانڈگ آفیسر نے اس سے داڑھی منڈانے کا مطالبہ شروع کردیا اور جب مسلم فوجی نے داڑھی نہیں منڈوائی تو اس کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے سمری کورٹ مارشل شروع کردیا اور دہلی کی آرمس فورس ٹریبونل نے بھی فوجی کے خلاف کورٹ مارشل کی اجازت دے دی ۔ اس معاملہ کی آئندہ سماعت اب 23اگست کو ہوگی۔جمعیۃ علما ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے دہلی ہائی کورٹ کے اس فیصلہ پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں امید ہے کہ مسلم فوجی کوعدلیہ سے انصاف ضرور ملے گا۔

واضح ہو کہ آرمس فورس ٹریبونل کے فیصلہ کے خلاف جمعیۃ علماء نے دہلی ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کی تھی جس پر آج سماعت عمل میں آئی ۔ سماعت کے دوران ہائی کورٹ کی دورکنی بینچ کے جسٹس سنجیو کھنہ اور جسٹس نوین چاولہ نے ٹریبونل کے فیصلہ پر فوری طور پر روک لگاتے ہوئے معاملہ کی سماعت 23 اگست تک ملتوی کردی ۔ بینچ کے سامنے جمعیۃ کی جانب سے مقرر کردہ وکلاء جیوتی سنگھ راوت ،ایڈوکیٹ ارشاد حنیف اور ایڈوکیٹ مجاہد احمد نے بتا یا کہ داڑھی رکھنا اسلامی شعار ہے اور ملک کے آئین نے ہر ہندوستانی شہری کو اس کے مذہب پر عمل کرنے اور اپنا مذہبی تشخص برقرار رکھنے کی مکمل آزادی اور اجازت دی ہے۔ انہوں نے عدالت میں بتایا کہ فوجی خواجہ معین الدین پاشا نے کمانڈنگ آفیسر سے اجازت طلب کرکے داڑھی رکھی تھی جس پر گزشتہ چار سال سے کوئی اعتراض نہیں کیا گیالیکن 2014میں اس کی کولکتہ میں پوسٹنگ کے وقت اس کے کمانڈنگ آفیسر نے اس کے داڑھی رکھنے پر اعتراض کیا اور ا سے داڑھی منڈانے کا حکم دیتے ہوئے معاملہ کو کورٹ مارشل کے لئے بھیج دیا ۔

داڑھی رکھنے پر مسلم فوجی کی معطلی کے خلاف دہلی ہائی کورٹ کا اسٹے: مولانا ارشد مدنی کا اظہار اطمینان

مولانا ارشد مدنی: فائل فوٹو

وکیل دفاع نے عدالت کو مزید بتا یا کہ آزادی کے بعد سے ہی ہندوستانی فوج کے مختلف شعبوں میں اپنی خدمت انجام دینے والے مسلم فوجیوں کو داڑھی رکھنے کی اجازت دی جاتی رہی ہے البتہ ا سکے لئے انہیں اجازت حاصل کرنا پڑتی تھی ،جو انہیں آسانی سے مل جاتی تھی لیکن اس کے باوجود کمانڈنگ آفیسر نے سمری کورٹ مارشل کی کاروائی کرکے ان کے موکل مسلم فوجی کے ساتھ زیادتی کی ہے ۔دفاعی وکلاء کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ نے آرمس فورس ٹریبونل کے فیصلہ پر روک لگادی ۔واضح رہے کہ خواجہ معین الدین بھاشا نے 2005میں فوج میں شمولیت اختیار کی تھی اور اس نے 2011سے داڑھی رکھنا شروع کیا تھا ۔ دہلی ہائی کورٹ کے اس کے فیصلے پر جمعیۃ علما ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ابھی یہ آخری فیصلہ نہیں ہے تاہم انہیں یقین ہے کہ مسلم فوجی کو عدالت سے انصاف ضرور ملے گا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز