نجیب گمشدگی کیس میں ٹھیک سے کام نہیں کررہی سی بی آئی اور دہلی پولیس ، ہائی کورٹ نے لگائی سخت پھٹکار

Oct 16, 2017 05:30 PM IST | Updated on: Oct 16, 2017 05:34 PM IST

نئی دہلی : تقریبا ایک سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے گمشدہ طالب علم نجیب احمد کا پتہ لگانےمیں پوری طرح ناکام رہنے پر دہلی ہائی کورٹ نے سی بی آئی اور دہلی پولیس کی سخت سرزنش کی ہے۔ خیال رہے کہ نجیب گزشتہ سال 15 اکتوبر سے یونیورسٹی کے ماہی-مانڈوی ہاسٹل سے غائب ہے اور اس کی تلاش کی کوششیں کی جارہی ہیں ، مگر ایک سال گزرجانے کے بعد تفتیشی ایجنسی خالی ہاتھ ہیں۔

دہلی ہائی کورٹ نے سخت الفاظ میں کہا ہے کہ نجیب احمد کیس میں سی بی آئی اور دہلی پولیس صحیح طریقہ سے کام نہیں کررہی ہے۔ ڈی آئی جی خود اس کیس کو صحیح طریقہ سے سپروائز نہیں کررہے ہیں۔ آج سی بی آئی نے جو اسٹیٹس رپورٹ داخل کی ہے ، وہ اس سے کہیں زیادہ بہتر رپورٹ داخل کرسکتی تھی۔ خیال رہے کہ آج ہی سی بی آئی نے ایک مہر بند اسٹیٹس رپورٹ عدالت میں جمع کی تھی ، جس پر ہی عدالت عالیہ نے سوالات اٹھائے ہیں۔

نجیب گمشدگی کیس میں ٹھیک سے کام نہیں کررہی سی بی آئی اور دہلی پولیس ، ہائی کورٹ نے لگائی سخت پھٹکار

عدالت نے سی بی آئی سے سخت لہجہ میں سوال کیا ہے کہ مشتبہ افراد کا پالی گرافی ٹیسٹ کیوں نہیں کرایا گیا۔ عدالت نے یہ بھی سوال کیا کہ مشتبہ افراد کے وہاٹس ایپ کی معلومات کیوں نہیں دی گئی ۔ ساتھ ہی ساتھ عدالت نے سی بی آئی سے بہتر رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت دی ۔

علاوہ ازیں ہائی کورٹ نے دہلی پولیس کےر ول پر بھی سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ عدالت نے صاف طور پر ڈی آئی جی کی کارکردگی پر ہی سوالات کھڑے کردئے۔ قابل ذکر ہے کہ سی بی آئی نے 6 ستمبر کو بھی عدالت میں ایک اسٹیٹس رپورٹ داخل کی تھی ، جس پر بھی عدالت نے کئی سوالات اٹھائے تھے اور اپنی غیر اطمینانی کا اظہار کیا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز