دہلی میں اردو کی تعلیم کے گرتے معیار پر اظہار ناراضگی

Mar 08, 2017 10:40 PM IST | Updated on: Mar 08, 2017 10:40 PM IST

دہلی : دہلی میں اردو تعلیم کی خستہ حالت کی وجہ سے اردو والے اب عام آدمی پارٹی سے بھی مایوس ہونے لگے ہیں ۔ دو سال کے بعد بھی اردو اساتذہ کی تقرری سے لے کرکئی طرح کے مسائل پر پیش رفت نہ ہونے کی وجہ سے اردو والوں کی سرکار سے ناراضگی بڑھتی جا رہی ہے ۔ سرکار گیسٹ ٹیچروں کے ساتھ ہر سال معاہدہ کرتی ہے۔ ان کی ہر مرتبہ نئے اسکول میں تقرری ہوتی ہے ، جس میں کئی مہینوں کی پڑھائی متاثر ہوجاتی ہے۔ حال ہی میں دہلی حکومت نے گیسٹ اساتذہ کی تنخواہیں دو گنا تک بڑھائی ہیں ۔ ایسے میں گیسٹ ٹیچروں کے لئے کچھ راحت توہے ، لیکن اگر مستقل تقرریاں نہیں ہوں گی تو اردو تعلیم کا بحران کبھی ختم نہیں ہوسکے گا ۔

دہلی میں کیجریوال سرکا ر دوسال پورے کررہی ہے ۔ تاہم اردو تعلیم کا بحران اور اساتذہ کی تقرری جیسے مسائل اب بھی جوں کے توں ہیں ۔ دو سال میں اردو اساتذہ کی تقرری کا وعدہ پورا نہیں ہوا ، جس سے اردو والوں میں کیجریوال حکومت سے مایوسی بڑھ رہی ہے۔

دہلی میں اردو کی تعلیم کے گرتے معیار پر اظہار ناراضگی

دہلی میں اردو اساتذہ کی مستقل تقرری 1995میں ہوئی تھی ۔ اس کے بعد دہلی میں اردو اساتذہ کی کمی پوری کرنے کے لیے اردو اکیڈمی کا استعمال کیا گیا ۔ جبکہ سرکار کی جانب سے گیسٹ ٹیچروں کے طورپر ہی اردو اساتذہ مہیا کرائے جاتے رہے ہیں، جن سے کم تنخواہ میں دیگر مضامین پڑھوانے سے کئی طرح کے مسائل پیدا ہوئے ہیں ۔ ارد دو اساتذہ کی تقرری نہ ہونے کے لئے سرکار کی جانب سے ہمیشہ تربیت یافتہ ٹیچر نہ ہونے کی دلیل دی جاتی رہی ہے ۔ تاہم اردو والوں کا کہنا کہ اصل مسئلہ نیت کا ہے ، تربیت یافتہ اردو اساتذہ کی کوئی کمی نہیں ہے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز