ایم سی ڈی انتخابات 2017: کس کے لئے کیا اہمیت رکھتے ہیں یہ انتخابات

Apr 26, 2017 08:51 AM IST | Updated on: Apr 26, 2017 08:51 AM IST

نئی دہلی۔ دہلی میونسپل کارپوریشن الیکشن بی جے پی، عام آدمی پارٹی (آپ) اور کانگریس کے لئے کیوں اتنا اہم بن گیا ہے؟ دہلی کے اس دنگل کی کیا علامتی اہمیت ہے؟ سینئر صحافی سبھاش نگم بتاتے ہیں کہ ایم سی ڈی انتخابات کو لے کر کسی پارٹی کی ساکھ اس طرح سے کبھی داؤ پر نہیں لگتی تھی جس طرح اس بار لگی ہے۔

راجدھانی دہلی کے تین کارپوریشنوں کے لئے اتوار کو انتخابات ہوئے تھے۔ بدھ کو نتائج آ رہے ہیں۔ دیکھنا ہے کہ 270 سیٹوں میں سے کون کتنے پر قابض ہوتا ہے۔ ایگزٹ پول کی وجہ سے فی الحال بی جے پی کے حامی خوش ہیں۔

ایم سی ڈی انتخابات 2017: کس کے لئے کیا اہمیت رکھتے ہیں یہ انتخابات

انڈیا گیٹ: فائل فوٹو

پی ایم نریندر مودی اور امت شاہ کی قیادت میں مسلسل الیکشن جیت رہی بی جے پی ایم سی ڈی چناؤ میں بھی جیت کی امید ظاہر کر رہی ہے۔ اتر پردیش اور اتراکھنڈ میں زبردست جیت کی وجہ سے ایم سی ڈی کے انتخابات میں بی جے پی کی جیت تقریبا طے مانی جا رہی ہے۔ ورنہ اس کے حق میں ایسا ماحول نہیں رہتا۔

Manoj_tiwari_News18India_130217

دہلی میں بہار اور پوروانچل کے ووٹروں کی تعداد کی وجہ سے بھوجپوری گلوکار منوج تیواری کو بی جے پی نے دہلی پردیش کی کمان دی۔ یہ الیکشن ان کا سیاسی مستقبل بھی طے کرے گا۔ یہ ان کا پہلا بڑا سیاسی ٹاسک ہے۔ ان کے لئے اس لئے بھی چیلنج بڑھ گیا ہے کیونکہ کسی بھی پرانے کونسلر کو پارٹی نے ٹکٹ نہیں دی ہے۔

Arvind_Kejriwal_NW18_120417

عام آدمی پارٹی کے لئے دہلی میں کرو یا مرو کی نوبت ہے۔ کیونکہ حال ہی میں وہ راجوری گارڈن اسمبلی علاقے میں اپنی سیٹ بی جے پی کو سونپ چکی ہے۔ سال 2015 کے اسمبلی انتخابات میں عام آدمی پارٹی نے 70 میں سے 67 سیٹیں جیتی تھیں لہذا اس انتخاب پر سب کی نظر لگی ہوئی ہے۔ اگر اس الیکشن میں عام آدمی پارٹی اچھا نہیں کرے گی تو اس کے آنے والے دن مشکل بھرے ہو سکتے ہیں۔

یہ الیکشن کانگریس کے ابھرنے کا ایک اور موقع ہے۔ پنجاب اسمبلی انتخابات میں جیت کے بعد اگر دہلی میونسپل کارپوریشن میں کانگریس واپسی کرتی ہے تو یہ حیران کن ہو سکتی ہے۔ حالانکہ جس طرح سے دہلی پردیش کانگریس کے سابق صدر اروندر سنگھ لولی نے پارٹی چھوڑی ہے، لگتا نہیں کہ ماحول کانگریس کے حق میں ہے۔

yogendra-yadav-aap

 

اس الیکشن کے بہانے اروند کیجریوال کے پرانے ساتھی رہے یوگیندر یادو کا بھی امتحان ہو گا۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ عام آدمی پارٹی کے اختلافات سے اکتوبر 2016 میں بنی یہ پارٹی، کتنی سیٹیں جیتتی ہے۔ نشستوں کی تعداد پر ہی اس پارٹی اور یادو کی سیاست آگے بڑھے گی۔

اوم پرکاش کی رپورٹ

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز