کرائے میں بے تحاشہ اضافہ کی مار جھیل رہے مسافر اب میٹرو میں ’پیک آور‘ کی تعریف بدلنے سے پریشان

Oct 15, 2017 06:09 PM IST | Updated on: Oct 15, 2017 06:09 PM IST

نئی دہلی۔ میٹرو کے کرائے میں بے تحاشا اضافے کی مار جھیل رہے مسافروں کو ’پیک آور‘ کی تعریف بدلنے سے اب ایک اور مسئلے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ بڑی تعداد میں مسافر اسمارٹ کارڈ پر ملنے والی 20فیصد کی راحت کا فائدہ نہیں اٹھا پا رہے ہیں۔ دہلی میٹرو نے گزشتہ 10اکتوبر کو چھ مہینے میں دوسری بار کرائے میں اضافہ کیا تھا۔ اس میں کم از کم کرائے میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا لیکن اس کے بعد دوری کے حساب سے تقریباً ہر زمرے میں دس روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ کرائے میں اضافے کی مسافروں ،سماجی تنظیموں اور سیاسی پارٹیوں نے سخت مخالفت کی ہے اور وہ اسے واپس لینے کےلئے دباؤ بنارہے ہیں۔ اسمارٹ کارڈ سے سفر کرنے والے لوگوں کو شروع سے ہی 10فیصد کی راحت ملتی رہی ہے اور گزشتہ اپریل میں کرایا بڑھائے جانے پر ’نان پیک آور‘ میں اسے بڑھا کر 20فیصد کردیا گیا تھا۔ لیکن 10 اکتوبر سے کرائے میں اضافے کے بعد میٹرو نے ’پیک آور‘ کی تعریف ہی بدل دی ہے۔ جس سے اسمارٹ کارڈ کا استعمال کرنے والے متعدد مسافر اس کا فائدہ اٹھانے سے قاصر ہیں۔

دراصل پہلے یہ چھوٹ مسافروں کے میٹرو نیٹ ورک سے ’’ایگزٹ‘‘ یعنی باہر نکلنے کے وقت سے جڑی تھی لیکن اب یہ ان کے میٹرو نیٹ ورک میں ’’اینٹری‘‘یعنی داخل ہونے کے وقت سے جوڑ دی گئی ہے۔ دس اکتوبر سے پہلے اسمارٹ کارڈ کا استعمال کرنے والے مسافروں کو صبح 10بجے تک ،دوپہر 12بجے سے لےکر شام پانچ بجے تک اور رات نو بجے کے بعد میٹرو نیٹ ورک سے باہر نکلنے پر 20فیصد کی چھوٹ ملتی تھی لیکن نئی تعریف میں اسے بدل دیا گیا ہے۔ نئے نظام میں صبح آٹھ بجے سے پہلے،دوپہر 12بجے سے شام 5بجے تک اور رات نو بجے کے بعد میٹرو نیٹ ورک میں داخل ہونے والے مسافروں کو ہی 20فیصد چھوٹ کا فائدہ ملے گا۔

کرائے میں بے تحاشہ اضافہ کی مار جھیل رہے مسافر اب میٹرو میں ’پیک آور‘ کی تعریف بدلنے سے پریشان

عام لوگوں میں میٹرو کے کرایہ میں اضافہ کی وجہ سے کافی ناراضگی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس سے دہلی کی لائف لائن بن چکی میٹرو غریب لوگوں کی دسترس سے باہر ہوجائے گی : فائل فوٹو۔

شام کو کام سے لوٹنے والے مسافروں کو نئے نظام سے نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے کیونکہ پہلے انہیں رات نو بجے بھی میٹرو نیٹ ورک سے باہر نکلنے پر 20فیصد کی چھوٹ مل رہی تھی لیکن اب انہیں نو بجے اور اس کے بعد داخل ہونے پر ہی یہ چھوٹ مل سکے گی۔ ایسے ہی دن میں بھی مسافروں کو بارہ بجے سے پہلے داخل ہونے پر بھی یہ چھوٹ مل جاتی تھی لیکن اب انہیں 12بجے اور اس کے بعد میٹرو میں داخل ہونے پر ہی یہ چھوٹ ملے گی۔ زیادہ تر مسافروں کو نئے نظام کا پتہ نہ ہونے کی وجہ سے بھی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے اور بڑی تعداد میں وہ اس کی شکایت کررہے ہیں۔

ادھر دہلی میٹرو کا دعوی ہے کہ ’پیک آور‘ کی تعریف بدلے جانے سے زیادہ تر مسافروں کو فائدہ ہورہا ہے کیونکہ اب صبح آٹھ بجے سے ٹھیک پہلے اور شام پانچ بجے سے ٹھیک پہلے میٹرو میں داخل ہونے والے مسافروں کو بھی چھوٹ کا فائدہ مل رہا ہے جبکہ پہلے ایسا نہیں تھا۔ دہلی میٹرو کا کہنا ہے کہ نئے نظام سے نان پیک آور کا وقت بڑھکر 11گھنٹے ہوگیا ہے ۔ابھی میٹرو میں 70فیصد سے زیادہ مسافراسمارٹ کارڈ کا استعمال کرتے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز