پرانی دلی کے چھ اسکولوں کو بند کرنے کے خلاف اقلیتی کمیشن کا منیش سسودیا کو خط

دلی سرکار کے محکمہ تعلیم کے پرانی دلی کے چھ اسکولوں کو بند کرنے اور انھیں علاقے کے دوسرے اسکولوں میں ضم کرنے کے فیصلے کے خلاف اقلیتی کمیشن نے دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر تعلیم منیش سسودیا کو خط لکھ کر اس فیصلے کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

Sep 23, 2017 07:47 PM IST | Updated on: Sep 23, 2017 07:48 PM IST

نئی دہلی۔ دلی سرکار کے محکمہ تعلیم کے پرانی دلی کے چھ اسکولوں کو بند کرنے اور انھیں علاقے کے دوسرے اسکولوں میں ضم کرنے کے فیصلے کے خلاف اقلیتی کمیشن نے دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر تعلیم منیش سسودیا کو خط لکھ کر اس فیصلے کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کمیشن کے صدر ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے مسٹر سسودیا کو بھیجے گئے خط میں لکھا ہے کہ اس سلسلے میں محکمہ تعلیم نے گذشتہ7جولائی کو ایک سرکلر جاری کیا تھا لیکن علاقے کے لوگوں کے احتجاج کی وجہ سے 14 جولائی کو حکومت نے اعلان کیا کہ مذکورہ سرکلر واپس لیا جاتا ہے اور مذکورہ چھ اسکول دوسرے اسکولوں میں ضم نہیں کیے جائیں گے۔  یاد رہے کہ ان چھ اسکولوں میں سے چار اسکول اردو میڈیم ہیں اور ان کے بند ہوجانے سے دہلی کے بچے کھچے اردو میڈیم اسکولوں میں مزید چار کی کمی واقع ہوجائے گی۔

سرکلر کو واپس لینے کی خبر سے علاقے کے عوام نے چین کا سانس لیا تھا لیکن 12ستمبر کو و زیر تعلیم نے علاقے کا دورہ کرتے ہوئے مذکورہ اسکولوں کے سربراہوں سے کہا کہ7 جولائی کا سرکلر اپنی جگہ قائم ہے اور وہ اس کے لئے تیار رہیں۔ صدر اقلیتی کمیشن نے اپنے خط میں منیش سسودیا کو لکھا  کہ یہ غیر ضروری اور عوام دشمن قدم ہے جس سے دلی سرکار کی بدنامی ہوگی۔ کمیشن نے وزیر تعلیم سے مطالبہ کیا ہے کہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں اور اپنے 14جولائی کے سرکلر پر قائم رہیں تاکہ ایک بڑی ناانصافی واقع نہ ہو۔

پرانی دلی کے چھ اسکولوں کو بند کرنے کے خلاف اقلیتی کمیشن کا منیش سسودیا کو خط

دلی اقلیتی کمیشن کے صدر ڈاکٹر ظفرالاسلام خان: فائل فوٹو۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز