Live Results Assembly Elections 2018

دہلی اردو اکیڈمی اروند کیجریوال حكومت کی لاپرواہی کا شکار

نئی دہلی۔ اردو زبان کی ترویج اور اشاعت کے لئے قائم دہلی اردو اکیڈمی کو اروند کیجریوال حكومت نے لاوارث بنا رکھا ہے ۔

Aug 02, 2017 02:47 PM IST | Updated on: Aug 02, 2017 02:47 PM IST

نئی دہلی۔ اردو زبان کی ترویج اور اشاعت کے لئے قائم دہلی اردو اکیڈمی کو اروند کیجریوال حكومت نے لاوارث بنا رکھا ہے ۔ اکیڈمی میں کل وقتی نہ ہی کوئی  وائس چیئر مین ہے اور نہ ہی سیكریٹری ۔ اس کے علاوہ تقریبا ایک درجن عہدے پر کوئی  تعیناتی نہیں ہے ۔ اردو اکیڈمی بھی آج  دیگر حکومتی اداروں کی طرز پر بےتوجہی کا شکار اور بربادی کی دہلیز پر کھڑی ہے۔ جس پر دہلی حکومت مسلسل خاموش ہے ۔

دہلی اردو اکیڈمی کا شمار ملک میں اردو زبان و ادب کے فروغ کے لئے کام کرنے والے تمام اداروں کے درمیان کامیاب ترین اداروں میں ہوتا آیا ہے ۔ لیکن ایک طویل عرصے سے دہلی حکومت کے لاپرواہ رویہ کے چلتے اب یہ اکیڈمی لاوارث نظر آنے لگی ہے۔  اکیڈمی میں سكریٹری، وائس چيئرمین کے علاوہ دوسرے بہت سے عہدوں پر تقرری ہونا باقی ہے ۔ لیکن اس پر دہلی حکومت کی نظر ہی نہیں پڑ رہی ہے ۔ اکیڈمی میں ہوئے ایک پرو گرام میں تشریف لائے نائب وزیر اعلی سے جب اسی سب کو لے کر سوال کیا گیا تو وہ اس سوال سے بچتے نظر آئے ۔

دہلی اردو اکیڈمی اروند کیجریوال حكومت کی لاپرواہی کا شکار

اردو اکیڈمی دہلی میں کوئی باضابطہ اور کل وقتی سکریٹری پانچ برسوں یعنی مرغوب حیدرعابدی کے بعد سے نہیں آیا ہے ۔ اکیڈمی کی موجودہ گورننگ باڈی کی مدت بھی ایک برس قبل ختم ہو چکی ہے مگر اب تک نئی باڈی کی تشکیل نہیں کی گئی ہے۔  موجودہ حكومت کی مدت میں نئے سکریٹری کی بحالی کے لئے دو مرتبہ  اخبارات میں اشتہار شائع کیا گیا اور اميدوارو ں کو انٹرویو کے لیے خطوط بھی روانہ کیے گئے مگر انٹرویو سے قبل ہر بار انٹرویو ملتوی کر دیا گیا ۔ اب اسے اردو کے تئیں حکومت کی غیر دلچسپی یا غفلت کہیں یا جان بوجھ کر ایسا کیا گیا، یہ سوال بدستور بنا ہوا ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے ایس ایم علی کے پاس اردو اکیڈمی دہلی کے سیكریٹری کا اضافی چارج ہے۔ ایس ایم علی اس کے علاوہ تین اور جگہ سكریٹری کے طور پر ذمہ داری نبھاتے ہیں ۔

Loading...

وہیں دوسری جانب اردو اکیڈمی دہلی کے وائس چيئرمین کا بھی یہی معاملہ ہے ۔ 28 اگست 2016 کو وائس چیئرمین ڈاکٹرماجد دیوبندی کی بھی مدت پوری ہو چکی ہے۔ وہیں دوسری جانب اردو اکیڈمی دہلی کے وائس چيئرمین کا بھی یہی معاملہ ہے ۔ 28 اگست 2016 کو وائس چیئرمین ڈاکٹرماجد دیوبندی کی بھی مدت پوری ہو چکی ہے۔

وہیں دوسری جانب اردو اکیڈمی دہلی کے وائس چيئرمین کا بھی یہی معاملہ ہے ۔ 28 اگست 2016 کو وائس چیئرمین ڈاکٹرماجد دیوبندی کی بھی مدت پوری ہو چکی ہے۔ اس کے بعد اب تک نہ ہی کوئی نیا وائس چیئرمین آیا ہے اورنہ ہی ان کی مدت کو بڑھایا گیا ہے ۔ واضح رہے کہ  کسی عہدے کی مدت  میں چیف منسٹر ہی اضافہ کرتے ہیں لیکن اردو کی جانب چیف منسٹر کی لاپرواہی باعث تشويش ہے ۔ اس کے علاوہ بھی اکیڈمی کےخالی عہدوں پر تقرری کی ضرورت ہے لیکن اس طرف بھی حکومت کی دلچسپی نہیں ہے ۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز