مدارس کے نصاب میں تبدیلی کی ضرورت پر زور، بزنس اسٹڈیز کو نصاب کا حصہ بنانے کا مطالبہ

ملک کے اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں ہر سال نصاب میں تبدیلی اور ترمیم ہورہی ہے اور جدید تحقیقات کو شامل کیا جارہا ہے ، تو دوسری جانب ملک میں ایسے بھی مدارس ہیں ، جن میں دو سو سال قدیم درس نظامی رائج ہے ۔

Feb 27, 2017 11:48 PM IST | Updated on: Feb 27, 2017 11:48 PM IST

دہلی(خرم شہزاد ) : ملک کے اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں ہر سال نصاب میں تبدیلی اور ترمیم ہورہی ہے اور جدید تحقیقات کو شامل کیا جارہا ہے ، تو دوسری جانب ملک میں ایسے بھی مدارس ہیں ، جن میں دو سو سال قدیم درس نظامی رائج ہے ۔ مذہبی رہنمابھی اب کھل کر کہنے لگے ہیں کہ جدید علوم کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے ۔مدارس کے200 سال سے زیادہ پرانے نصاب میں تبدیلی اور اصلاح کی وکالت تیز ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ مسلم مذہبی رہنمااب کھل کر مدارس کے نصاب میں جدید اور عصری تقاضوں کوپوراکرنے والے علوم وفنون کوشامل کرنے کی آواز بلند کرنے لگے ہیں ۔

دہلی میں التقوی ایجوکیشنل گروپ کی جانب سے فارغین مدارس کے لیے تجارت کے موضوع پرایک مباحثہ کا انعقاد کیا گیا ۔ مباحثہ میں یونیورسٹوں کے تعلیم یافتہ ماہرین کے علاوہ کئی مدارس سے وابستہ رہے مذہبی رہنما بھی شامل ہوئے ۔ مباحثہ کے دوران مدارس کے نصاب میں اصلاح اورتبدیلی کی پرزور وکالت کی گئی ۔ اس بات پر زوردیا گیا کہ مدارس کے نصاب میں بزنس اسٹڈیز کو شامل کیاجانا چاہیے ۔

مدارس کے نصاب میں تبدیلی کی ضرورت پر زور، بزنس اسٹڈیز کو نصاب کا حصہ بنانے کا مطالبہ

ماہرین نے کہا کہ فارغین مدارس قانون ، سیاسیات اورسوشل ورک جیسے میدانوں میں جاکر کام کریں اور مساجد اورمکاتب کو روزی روٹی کا ذریعہ بنانے کی بجائے تجارت کو پیشہ بنائیں ۔ مباحثہ کے دوران جامعہ عزیزیہ کے طلبہ کو تقریر و تحریر کےعلاوہ بہترین کارکردگی کے لیے انعامات سے بھی نواز ا گیا۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز