نوٹ بندی : آر بی آئی سے نہیں ملے ان سوالات کے جواب ، تو وزیر اعظم مودی کو طلب کرسکتی ہے پی اے سی

پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹ کمیٹی میں نوٹوں کی منسوخی پر ریزرو بینک کے گورنر ارجت پٹیل کے جوابات سے مطمئن نہ هونے پر وزیر اعظم نریندر مودی کو طلب کرنے کا مطالبہ ہوسکتا ہے

Jan 09, 2017 10:26 PM IST | Updated on: Jan 09, 2017 10:26 PM IST

نئی دہلی: پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹ کمیٹی میں نوٹوں کی منسوخی پر ریزرو بینک کے گورنر ارجت پٹیل کے جوابات سے مطمئن نہ هونے پر وزیر اعظم نریندر مودی کو طلب کرنے کا مطالبہ ہوسکتا ہے۔ کمیٹی کے چیئر مین کے وی تھامس نے آج یہاں بتایا کہ کمیٹی کی 20 جنوری کو ہونے والی میٹنگ میں مسٹر پٹیل اور وزارت خزانہ کے سینئر حکام کو نوٹوں کی منسوخی پر جواب دینے کے لئے بلایا گیا ہے۔

دریں اثنا 22 رکنی اس کمیٹی کے ایک رکن کے مطابق اگر ریزرو بینک کے گورنر اور فائنانس سکریٹری اشوك لواسا اور اقتصادی امور کے سکریٹری شكتی کانت داس کے جوابات تسلی بخش نہیں ہوئے تو کمیٹی میں وزیر خزانہ ارون جیٹلی اور یہاں تک کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو بلانے کا مطالبہ کیا جا سکتاہے۔ کمیٹی نے ریزرو بینک کے گورنر اور وزارت خزانہ کے حکام سے پوچھا ہے کہ کیا نوٹوں کی منسوخی سے کالا دھن باہر آیا ہے، اس فیصلے میں کون -كون سے لوگ شامل تھے، نوٹوں کی منسوخی کے بعد بینکوں میں کتنے پیسے واپس آئے اور اس اقدام سے عام آدمی کس طرح متاثر ہوا ہے۔

نوٹ بندی : آر بی آئی سے نہیں ملے ان سوالات کے جواب ، تو وزیر اعظم مودی کو طلب کرسکتی ہے پی اے سی

کمیٹی میں شامل کچھ اپوزیشن ارکان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ذمہ دار رہنما ہونے کے ناطے وہ کمیٹی کے کام کاج میں اور وزیر اعظم اور مسٹر جیٹلی کو بلانے پر اتفاق رائے سے آگے بڑھنا چاہیں گے۔ ایک کانگریس رکن نے کہا، 'ہم بی جے پی ممبران پارلیمنٹ کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ جب ترقی پسند اتحاد کی حکومت تھی تو انہوں نے ٹو جی اسپیکٹرم الاٹمنٹ کے مسئلے پر کس طرح برتاؤ کیا تھا۔ سال 2011 میں مسٹر مرلی منوہر جوشی پی اے سی کے چیئرمین تھے۔ انہوں نے اس وقت پی اے سی میں شامل اپوزیشن ارکان کے ساتھ ساتھ اس معاملے کی تحقیقات کر رہی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین پی سی چاکو کے ساتھ تصادم کا راستہ اختیار کیا تھا۔

آخر میں اس وقت کی لوک سبھا اسپیکر میرا کمار نے مثالی فیصلہ کیا تھا انهونے دونوں کمیٹیوں سے باہمی تال میل کے ساتھ کام کرنے پر زور دیا تھا۔ پی اے سی متفقہ طور پر کام کرتی ہے۔ پی اے سی میں بی جے پی کے نشی کانت دوبے، کریٹ سومیا اور انوراگ ٹھاکر جیسے ارکان کے علاوہ جناردن سنگھ سگريوال اور ابھیشیک سنگھ ہیں۔ اس میں ترنمول کانگریس کے سدیپ بندوپادھيائے اور سماج وادی پارٹی کے نریش اگروال بھی ہیں۔

کمیٹی کے چیئرمین تھامس کے علاوہ کانگریس کے شانتا رام نائیک، ستیہ ورت چترویدی اور بھونیشور كليتا اس کے اراکین میں شامل ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز