وزارت خزانہ نے نوٹ بندی کے اعلان کے بعد زیادہ جمع والے کھاتوں کی رپورٹ طلب کی

Jan 07, 2017 03:45 PM IST | Updated on: Jan 07, 2017 03:45 PM IST

نئی دہلی۔ نوٹ بندی کے اعلان کے بعد 30 دسمبر تک جن اکاؤنٹس میں بہت زیادہ پیسہ جمع کرایا گیا ہے حکومت نے بینکوں اور ڈاک خانوں سے 15 جنوری تک ان کی رپورٹ طلب کی ہے۔ ساتھ ہی اگر کسی اکاؤنٹ کے ساتھ پین نمبر یا فارم 60 منسلک نہیں ہے تو 28 فروری تک اکاؤنٹ ہولڈر کو بینک میں پین نمبر یا فارم 60 جمع کرانے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ وزارت خزانہ نے بینکوں اور ڈاک خانوں سے کہا ہے کہ جن بچت اکاؤنٹس میں 09 نومبر سے 30 دسمبر کے دوران کسی ایک دن 50 ہزار روپے سے زیادہ جمع کرائے گئے ہیں یا پوری مدت کے دوران ڈھائی لاکھ روپے یا اس سے زیادہ جمع کرائے گئے ہیں اس کی اطلاع 15 جنوری تک دی جائے۔اس کے علاوہ اگر کسی موجودہ اکاؤنٹ میں اس مدت کے دوران 12.50 لاکھ روپے یا اس سے زیادہ جمع کرائے گئے ہیں تو اس کی بھی رپورٹ دینے کو کہا گیا ہے۔اس میں کوآپریٹو بینکوں میں جمع کرائی گئی رقم بھی شامل ہے۔

وزارت نے کہا ہے کہ اگر ایک ہی شخص نے مختلف اکاؤنٹس میں پیسے جمع کرائے ہیں اور اس کی مجموعی رقم  مقررہ حد سے زیادہ ہے تو اس کی بھی رپورٹ محکمہ انکم ٹیکس کو سونپی جائے۔ خاص بات یہ ہے کہ حکومت نے ایسے اکاؤنٹس کا رواں مالی سال کا نوٹ بندي سے پہلے ریکارڈ بھی مانگا ہے۔ بینکوں سے ان اکاؤنٹس کے بارے میں چار باتوں کی اطلاع طلب کی گئی ہے۔ ان میں اکاؤنٹ میں جمع کرائی گئی کل رقم، نکالی گئی کل رقم، یکم اپریل 2016 سے 08 نومبر 2016 کے درمیان جمع کرائی گئی رقم اور 09 نومبر سے 30 دسمبر کے بعد جمع کرائی گئی رقم کی تفصیلات شامل ہیں۔ حکومت نے اس کے لیے انکم ٹیکس قانون، 1962 کے متعلقہ ضابطوں میں ضروری ترامیم کے لئے جمعہ کو نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

وزارت خزانہ نے نوٹ بندی کے اعلان کے بعد زیادہ جمع والے کھاتوں کی رپورٹ طلب کی

واضح رہے کہ حکومت نے 08 نومبر کی آدھی رات سے پانچ سو روپے اور ایک ہزار روپے کے پرانے نوٹوں کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔اس وقت اس نے کہا تھا کہ اگر کسی بھی اکاؤنٹ میں ڈھائی لاکھ روپے سے زیادہ جمع کرائے جاتے ہیں تو اس کو چیک کیا جائے گا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز