Live Results Assembly Elections 2018

پڑھیں نوٹ بندی کی تین کہانی، لکھنئو والوں کی زبانی

وہیں، پان کی دکان چلانے والے راجندر گپتا کی کہانی بھی بہت دلچسپ ہے۔ گپتا جی کا کہنا ہے کہ اس دن اچانک کھلے پیسے مانگنے والوں کی بھرمار ہو گئی۔

Nov 08, 2017 04:07 PM IST | Updated on: Nov 08, 2017 04:07 PM IST

لکھنئو۔ آج سے ٹھیک ایک سال پہلے آٹھ نومبر کی رات کو وزیراعظم نے کالے دھن اور بدعنوانی کے خلاف ایک بڑی جنگ کا اعلان کرتے ہوئے 500-1000 کے نوٹوں کو چلن سے باہر کر دیا۔ یہ ایسا فیصلہ تھا جس کی اطلاع لوگوں کو تب ملی جب سبھی اپنے اپنے انداز میں اس پر باتیں کرنے لگے۔

جس وقت یہ اعلان کیا گیا اس وقت اکثر لوگ دفتر سے گھر جانے کے لئے راستہ میں ہی تھے۔ ان میں سے کچھ کو ٹویٹر سے جانکاری ملی اور کسی کو واٹس ایپ کے ذریعہ۔ کسی نے بغیر بتائے اپنے پاس پڑے 500 اور 1000 نوٹوں کے کھلے کرانے شروع کر دئیے۔

پڑھیں نوٹ بندی کی تین کہانی، لکھنئو والوں کی زبانی

بینکوں کے باہر لگی تھی لمبی لائن

Loading...

'میں نے سوچا کہ پی ایم مودی پاکستان کے ساتھ جنگ ​​کا اعلان کرنے والے ہیں'

میں دفتر سے نکلا تھا۔ گھریلو اشیاء لینی تھیں۔ میں پی ایم او اور نریندر مودی کو ٹویٹر پر فالو کرتا ہوں۔ میں جہاں سے سامان خریدتا ہوں اسی دکان میں رکا تھا۔ بھیڑ تھی اس لئے ٹویٹر چیک کر رہا تھا۔ ایک میسیج تقریبا 7.30 بجے پی ایم او کے ٹویٹر ہینڈل سے آیا کہ وزیر اعظم قوم کو خطاب کرنے والے ہیں۔ میں نے سوچا کہ چند دن قبل سرجیکل اسٹرائک ہوئی تھی۔ ہو سکتا ہے پاکستان نے جنگ کا اعلان کر دیا ہو۔ لیکن تقریبا نصف گھنٹے کے بعد ٹویٹر ہینڈل پر ٹویٹ آنے شروع ہوئے۔

پنکج ترپاٹھی، سرکاری ملازم پنکج ترپاٹھی، سرکاری ملازم

 

لکھا تھا آٹھ نومبر یعنی کل سے 500 اور 1000 کے نوٹ چلن سے باہر ہو جائیں گے۔ وہ لوگ جن کے پاس یہ نوٹ ہیں وہ انہیں بینک میں جمع کرا دیں۔ مہینے کی شروعات تھی۔ میں نے تنخواہ کے پیسے نکالے تھے۔ میرے پاس کچھ 10-12 ہزار روپئے تھے۔ میں نے دکان دار کو بتایا کہ مجھے چینج کی ضرورت ہے۔ مجھے 100-100 کے نوٹ چاہئے۔ اس نے مجھے تقریبا 4000 کھلے پیسے دے دئیے۔ یہ کہنا ہے ریاستی حکومت کے ملازم پنکج ترپاٹھی کا۔

فیملی کے ساتھ باہر گیا ہوا تھا

وہیں، اندرانگر کے رہائشی جتیندر سنگھ، جو کہ پیشہ سے ایک سرکاری ٹھیکیدار ہیں، کہتے ہیں کہ اس دن وہ فیملی کے ساتھ باہر گئے ہوئے تھے۔ انہیں کچھ بھی اندازہ نہیں تھا۔ جب وہ رات کے تقریبا 10 بجے گھر پہنچے تو انہیں گھر والوں سے پتہ چلا کہ نوٹ بندی ہو گئی ہے۔ مجھے کوئی دقت نہیں تھی۔ گھر میں اتنی نقدی نہیں تھی جس سے کوئی دقت ہو۔ بس ضرورت کی چیزیں چاہئے تھیں۔ اس میں سب سے زیادہ ضروری بیٹی کے لئے اسکول کی سویٹر تھی۔ بس بیٹی کے لئے ٹھنڈ میں اسکولی ڈریس خریدنی تھی۔

جتیندر سنگھ، سرکاری ٹھیکیدار جتیندر سنگھ، سرکاری ٹھیکیدار

میں نے بچوں کا غلق توڑا، اس میں سے 450 روپے لئے اور وہ خرید لایا۔ گھر میں زیادہ پیسے تھے نہیں۔ پاپا نے بھی جو پیسے تھے جمع کر دئیے اور میں نے بھی۔

اچانک پیسے تبدیل کرانے والوں کی بھیڑ لگ گئی

وہیں، پان کی دکان چلانے والے راجندر گپتا کی کہانی بھی بہت دلچسپ ہے۔ گپتا جی کا کہنا ہے کہ اس دن اچانک کھلے پیسے مانگنے والوں کی بھرمار ہو گئی۔ میرے جاننے والے شاوجی آئے۔ انہوں نے 500 کا ایک نوٹ دیا اور کہا کہ اس کے کھلے چاہئے۔ میں نے کہا کہ ابھی نہیں ہے۔

راجیندر گپتا، پان دکاندار راجیندر گپتا، پان دکاندار

 

انہوں نے کہا کہ بہت ضروری ہے۔ چونکہ وہ میرے باقاعدہ گاہک ہیں اس لئے میں نے انہیں کھلے پیسے دے دئیے۔ اس دوران بہت سے لوگوں نے مانگا میں نے انہیں بھی دئیے۔ اس کے بعد ان سے لوگوں نے پوچھا کہ کتنے پیسے رکھے ہو؟ 500.1000 کے؟ ۔ میں نے کہا کیوں، ان لوگوں نے ہی بتایا کہ اب کل سے یہ سارے نوٹ بند ہو گئے ہیں۔ پان کی دکان ہے کتنی نقدی رکھیں گے؟ میں نے کہا کوئی نہیں ۔ میں نے موبائل پر ایف ایم لگایا پھر معلوم ہوا کہ خبر درست ہے۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز