یہ ہے کامیابی کی نئی مثال، 16 بار ہوا فریکچر پھر بھی پاس کیا یو پی ایس سی امتحان

Jun 05, 2017 12:07 PM IST | Updated on: Jun 05, 2017 12:22 PM IST

نئی دہلی۔ حالات کتنے بھی مشکل کیوں نہ ہوں، اگر آپ میں جذبہ ہے، آپ کوشش کرتے ہیں تو آپ کی جیت یقینی ہے۔ پہلی کوشش میں یو پی ایس سی میں 420 ویں رینک لانے والی ام الخیر کی زندگی بھی کافی اتار چڑھاو بھری رہی۔ آسٹيو جینیسس جیسی سنگین بیماری سے دوچار ام الخیر کا بچپن جھونپڑی میں گزرا، ان کے والد ریہڑی-پٹری پر سامان فروخت کرتے تھے، پیسوں کی کمی کی وجہ سے ان پر پڑھائی چھوڑنے کا بھی دباؤ ڈالا گیا پر انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ آج وہ ملک کے نوجوانوں کے لئے ایک مثال بن چکی ہیں۔

افسران نے اکھاڑ پھینکا تھا گھر

یہ ہے کامیابی کی نئی مثال، 16 بار ہوا فریکچر پھر بھی پاس کیا یو پی ایس سی امتحان

راجستھان کے پالی مارواڑ میں ایک غریب خاندان میں پیدا ہونے والی ام الخیر جب پانچ سال کی تھی تب ان کا خاندان دہلی آ گیا۔ خاندان میں ماں پاپا کے علاوہ تین بھائی بہن تھے۔ ام الخیر کے والد یہاں ریہڑی-پٹری پر کپڑے فروخت کرتے تھے، ان کا خاندان نظام الدین علاقے کی جھگی جھونپڑی میں رہنے لگا۔ سال 2001 میں ان کے گھر کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے توڑ دیا گیا۔ خاندان دہلی کی سڑکوں پر آ گیا، اس کے بعد دہلی کے ترلوک پوری علاقے میں ایک چھوٹے سے کمرے میں وہ اپنے خاندان کے ساتھ رہنے لگیں۔ اس دوران غربت کے چلتے خاندان نے ام الخیر پر پڑھائی چھوڑنے کا دباؤ بھی بنایا، لیکن انہوں نے ہار نہیں مانی اور اپنی تعلیم جاری رکھی۔

بعد میں ام الخیر نے ترلوک پوری میں ہی دوسری جگہ کمرہ لے لیا۔ گزارے کے لئے ام الخیر نے بچوں کو ٹیوشن پڑھانا شروع کر دیا۔ وہ 50 روپے فی ماہ میں بچوں کو دو گھنٹے ٹیوشن پڑھاتی تھیں۔ اسی دوران ام الخیر نے آئی اے ایس بننے کا خواب دیکھا۔

نہیں مانی ہار

سال 2008 میں ارواچين اسکول سے 12 ویں پاس کرنے کے بعد دہلی یونیورسٹی میں نفسیات سے گریجویشن کے لئے داخلہ لیا۔ 2011 میں دہلی یونیورسٹی سے گریجویشن کے بعد ام الخیر نے جے این یو کے انٹرنیشنل اسٹڈیز اسکول سے پہلے ایم اے کیا اور پھر اسی یونیورسٹی میں ایم فل / پی ایچ ڈی کورس میں داخلہ لیا۔ جے این یو میں داخلے کا عمل آسان نہیں ہے کیونکہ یہاں انٹرنس امتحان کے ذریعہ چنندہ طلبہ کا ہی ایڈمشن ہو پاتا ہے۔

ام الخیر: فوٹو، فیس بک ام الخیر: فوٹو، فیس بک

ام الخیر کے لئے سب سے مشکل وقت وہ تھا جب جے این یو سے ایم اے کرتے وقت 2012 میں ان کا ایکسیڈنٹ ہو گیا۔ اس حادثہ کے بعد بون ڈس آرڈر کے چلتے وہ ویل چیئر پر آ گئیں۔ جے این یو سے ایم اے کی تعلیم کے دوران انہیں میرٹ کم-مینس اسکالر شپ کے تحت 2000 روپے مہینہ ملنے لگ گیا اور ہاسٹل میں رہنے کی جگہ بھی۔ اس کے بعد ام الخیر نے ٹیوشن پڑھانا چھوڑ اپنی پوری توجہ پڑھائی پر لگا دی۔ 2013 میں ام الخیر  نے جے آر ایف کریک کیا جس کے بعد انہیں اسکالر شپ کے طور پر 25 ہزار روپے فی مہینہ ملنے لگا۔ ابھی وہ جے این یو سے انٹرنیشنل ریلیشنز میں پی ایچ ڈی کر رہی ہیں۔ ام الخیر نے بتایا کہ اب تک انہیں 16 فریکچر ہو چکے ہیں اور 8 بار ان کی سرجری ہو چکی ہے۔

ام الخیر کی اس کامیابی بھرے سفر پر فرسٹ پوسٹ ہندی نے ان سے بات چیت کی

سوال: آپ اپنی اس کامیابی میں جے این یو کی کتنی حصہ داری مانتی ہیں؟

جواب: جے این یو میں آنے کے بعد رہنے کے لئے جگہ مل گئی۔ جو رہنے کی پریشانی تھی وہ دور ہو گئی۔ اس کے بعد جے آر ایف مل گئی۔ پیسے کی پریشانی سے بھی راحت مل گئی۔ جس کے بعد پڑھنے کے لئے معاشی پریشانی دور ہو گئی۔ جے این یو میں پڑھنا اپنے آپ میں بڑی بات تھی۔

سوال: یو پی ایس سی کلیئر کرنے کے بعد آپ کے پاپا کا کیا رد عمل تھا؟

جواب: رزلٹ آنے کے بعد میں نے پاپا سے بات کی۔ انہوں نے مجھے ڈھیر ساری نیک خواہشات دیں۔ وہ میری باتوں کو سن کر جذباتی بھی ہوئے، انہیں اس بات کی بہت خوشی تھی۔

سوال: خواتین اور پسماندہ طبقات کے لئے بطور آئی اے ایس کیا کرنا چاہتی ہیں؟

جواب: دیکھئے، ایک لڑکی ہونے کے ناطے میری اپنی زندگی بھی کافی مشکلات سے گزری ہے۔ میں عورتوں کی ترقی کے لئے بہت کام کرنا چاہتی ہوں۔ جو پریشانیاں میری زندگی میں آئیں ان پریشانیوں کے حل کے لئے میں بہت کام کرنا چاہتی ہوں۔

سوال: قارئین کو کیا میسج دینا چاہتی ہیں؟

جواب: زندگی کا کوئی بھی شعبہ ہو اس کے تئیں آپ اپنا مکمل ڈیڈیکیشن رکھیں۔ ضروری نہیں کہ آپ غریب ہیں تو آپ کے خواب بھی غریب ہوں گے۔ ساری بندشوں کو توڑنے، سارے حالات سے آگے بڑھ کر تھوڑا سا بلند خواب رکھنا پڑے گا۔ ایمانداری کے ساتھ خواب کا پیچھا کرئیے۔ ان کو پورا کرنے کے لئے پوری محنت کریئے۔ ایک دن آئے گا جب آپ کے خواب پورے ہوں گے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز