گوا میں بی جے پی کی حکومت بننے میں گڈکری جی کے تھیلے نے کام کیا : دگ وجے سنگھ

Mar 17, 2017 04:16 PM IST | Updated on: Mar 17, 2017 04:17 PM IST

نئی دہلی : گوا میں اسمبلی انتخابات کے بعد نتائج میں کانگریس سب سے بڑی پارٹی کے طور پر سامنے آئی، اس کے باوجود بی جے پی نے حکومت بنالی ۔ اس معاملہ کانگریس کے گوا الیکشن انچارج دگ وجے سنگھ آج صبح سے ہی اپنی بھراس نکال رہےہیں۔ آج سب سے پہلے انہوں نے 20 سے زیادہ ٹویٹ کئے ، اس کے بعد نیوز 18 انڈیا کے چوپال پروگرام میں بھی بی جے پی نشانہ سادھا۔

دگ وجے سنگھ نے کہا کہ گڈکری جی تھیلا لے کر گوا گئے تھے۔ جب نیند کے وقت یعنی رات کے وقت آپ سوتے ہیں ، تو ایماندار ہیں، اچھے لوگ رات میں سوتے ہیں جبکہ چوری کرنے والے رات کو جاگتے ہیں۔ صبح 4 سے 7 بجے تک وجے منوہر اور گڈکری کہاں تھے، یہ لوگ ہوٹل میں سودے بازی کر رہے تھے۔ برج بھوشن سنگھ ان کے گھر آئے اور وجے کو لے کر گڈکری جی سے ملانے لے گئے اور پھر تھیلے نے کام کیا۔

گوا میں بی جے پی کی حکومت بننے میں گڈکری جی کے تھیلے نے کام کیا : دگ وجے سنگھ

گوا کے بارے میں تفصیل سے بات چیت کرتے ہوئے دگ وجے نے کہا کہ کانگریس کو مینڈیٹ ملا تھا تو گورنر کو ہمیں رابطہ کرنا چاہئے تھا ، مگر ہمیں نہیں بلایا گیا اور نہ ہی وقت دیا گیا۔ گورنر پر نشانہ سادھتے ہوئے انہوں نے ممبئی مرر کو دیئے مردلا سنہا کے انٹرویو کا حوالہ دیا۔ اس میں انہوں نے کہا کہ 'میں ساكولجسٹ ہوں، انہوں نے اراکین اسمبلی کے چہرے دیکھے اور پھر طے کیا اور ارون جیٹلی جی سے بات کی۔ انہوں نے نہ اٹارنی جنرل سے بات کی ، نہ وزیر قانون سے نہ ہی صدر جمہوریہ سے بات کی۔

گوا میں کانگریس سب سے بڑی پارٹی ہونے کے باوجود حکومت بنانے میں ناکام ہونے پر انہوں نے کہاکہ ہماری پارٹی کے ہی کچھ لوگوں نے چھرا گھونپا۔ انہوں نے میڈیا پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ سب کی نظر میں سب سے بڑا کھلنائک دگ وجے ہے، مجھ سے ناراضگی ہے ، کیونکہ میں بی جے پی اور سنگھ کو برا بھلا کہتا ہوں۔

انہوں نے یوپی انتخابات میں بی جے پی کی جیت کا سبب بتاتے ہوئے کہا کہ بی جے پی ہندو مسلمان کئے بغیر الیکشن لڑ ہی نہیں سکتی۔ پوری دنیا میں قوم پرستی کی ہوا کا یہ ایک جھونکا ہے ۔ کانگریس آج بھی اس ملک میں جگہ جگہ ہے۔ ہم لوگ کیڈر کی بنیاد پارٹی سے لڑ رہے ہیں۔ یہ لوگ ششو مندر سے ہی بچوں کے ذہن میں مسلمانوں کے تئیں اور عیسائیوں کے تئیں بغض بھر دیتے ہیں۔

دگ وجے نے کہا کہ میری بات اگر میری ہی پارٹی مان لیتی تو مودی وزیر اعظم نہیں ہوتے۔ راہل کے فلاپ ہونے کے جواب میں انہوں نے کہا کہ راہل جی چل رہے ہیں۔ مثال پنجاب ہے ، لوگ بھلے ہی اس کے پیچھے امریندر سنگھ کا نام لیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ میڈیا کی عادت ہے، جیتے تو اور کوئی ہارے تو راہل گاندھی پر الزام پرڈال دیتے ہیں۔ آج بھی کانگریس سب سے بڑی پارٹی ہے پارلیمنٹ میں۔ باقی سب علاقائی پارٹی ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز