جامعہ ملیہ کا قیام آزادی سے وابستہ ہے ، اسی لیے اسے عدم تشدد کی نشانی سے تعبیر کیا گیا : ڈاکٹر نجمہ ہیپت اللہ

Jun 20, 2017 02:12 AM IST | Updated on: Jun 20, 2017 02:12 AM IST

نئی دہلی : جامعہ ملیہ اسلامیہ کی چانسلر کے طور پر آج پہلی بارجامعہ تشریف لائیں منی پور کی گورنر ڈاکٹر نجمہ ہیبت اللہ یونیورسٹی میں 102 فٹ اونچے قومی پرچم،پرم ویر چکر سے نوازے گئے بہادروں کی تصاویر والے ’’ وال آف ہیروز‘‘ اور اس ادارے کے بانیوں اور محسنوں کی تصویر والے ’’ وال آف فاونڈرس‘‘ کا افتتاح کرتے وقت کافی جذباتی ہو گئیں۔ آج یہاں جاری کردہ ریلیز کے مطابق اس موقع پر اپنی نم آنکھوں کو بار بار پوچھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کا قیام آزادی سے منسلک ہے اور اسی لیے اسے عدم تشدد کی نشانی سے تعبیر کیا گیا۔

جامعہ اپنی اس روایت کو تا ہنوز باقی رکھے ہوئے ہے جس پر ہم کو فخرہے ۔ جامعہ کی پہلی خاتون چانسلر نے کہا ’’جامعہ ملیہ قوم پرست تحریک کی مہم کا حصہ ہے اور بابائے قوم مہاتما گاندھی کے اعلان پر برطانوی تعلیم کے خلاف قوم پرستوں نے اس کی بنیاد رکھی تھی جس کے بانی تحریک آزادی کے عظیم قائد مولانا محمد علی جوہر تھے ۔ انہوں نے بلبل ہند سروجنی نائیڈو کا جامعہ سے تعلق کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے کہا وہ کہا کرتی تھیں کہ جامعہ ملیہ کے بانیوں نے مہاتما گاندھی کی ایک پکار پر تنکا تنکا جوڑ کرجامعہ کی شکل میں قربانی کی انمول مثال قائم کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ کا مطلب دانش گاہ ہوتا ہے اور ملیہ کا مطلب قوم پرستی ، جامعہ ان دونوں کا حسین سنگم ہے ۔

جامعہ ملیہ کا قیام آزادی سے وابستہ ہے ، اسی لیے اسے عدم تشدد کی نشانی سے تعبیر کیا گیا : ڈاکٹر نجمہ ہیپت اللہ

انہوں نے کہا کہ یہ قوم پرست ادارہ آج ترقی کے منازل طے کر کے ایک عظیم علمی مشعل کی شکل لے چکا ہے جو پوری آب و تاب کے ساتھ ملک ہی نہیں بلکہ بیرون ملک بھی چمک رہا ہے اور اس کے سپوت آج دنیا بھر میں پھیل کر اپنا کرداراحسن طریقے سے ادا کر رہے ہیں۔ چانسلر ہیبت اللہ نے کہا، ’’ جس مقصد کیلئے جامعہ ملیہ اسلامیہ کا قیام عمل میں آیاتھا اور جس قوم پرستی کی بنیاد پر یہ ادارہ کھڑا ہوا، اس جذبے کو میں سلام کرتی ہوں۔‘‘انھوں نے کہا کہ ’’میرے نانا مولانا آزاد کا بھی جامعہ سے کافی دیرینہ تعلق تھا اور اس نسبت سے جامعہ میرے خون میں ہے اور میں جامعہ کی تعمیر و ترقی اور مزید اڑان کی متمنی ہوں ‘‘۔ انہوں نے اس بات پر خوشی ظاہر کی کہ جس مقصد کو لے کر جامعہ کی بنیاد ڈالی گئی تھی آزادی کے 75 سال بعد بھی وہ اپنے مقاصد ، اقداراور روایت کو لیکرآگے بڑھ رہی ہے اور جو قوم پرستی، ملکی اتحاد و سالمیت کے امین کے طور پرخود کو منوانے میں کامیاب ہے۔

ایک سوال کے جواب میں جامعہ کی چانسلر نے کہا کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی کو جامعہ ملیہ اسلامیہ آنے کی دعوت ضرور دیں گی ۔ انھوں نے کہا کہ وہ نارتھ ایسٹ کی دو یونیورسٹیوں کی چانسلر ہیں اور ان کی خواہش ہوگی کہ ان یونیورسٹیوں سے بھی جامعہ کا اشتراک ہو ، خاص کرجامعہ کے شعبہ ابلاغ عامہ اور نارتھ ایسٹ اسٹڈیز ریسرچ سینٹر کی خدمات قابل تقلید ہیں ۔ اس موقع پر وائس چانسلر آفس کے احاطے میں 102 فٹ اونچے دھات کے کھمبے پر 30 فٹ طویل اور 20 فٹ وسیع قومی پرچم کو لہرا کر اس کا افتتاح کیا۔ ڈاکٹر نجمہ ہیپت اللہ قومی پرچم لہرانے کے ساتھ ہی یونیورسٹی کے ڈاکٹر ذاکر حسین لائبریری میں منعقد ایک خصوصی پروگرام میں’’ وال آف ہیروز‘‘ کا بھی افتتاح کیا جس پر ملک کے اب تک کے 21 پرم ویر چکر سے نواے گئے بہادروں کی تصاویر لگا ئی گئی ہیں۔ ’’ وال آف ہیروز‘‘ کے ساتھ دیوار پر ’’ وال آف فاونڈرس‘‘بھی بنایا گیا ہے جس پر تقریبا ایک صدی پرانے اس یونیورسٹی کے بانیوں اور محسنوں کی تصاویر ہیں۔ ان میں مولانا محمود حسن ، مہاتما گاندھی، پنڈت جواہر لال نہرو، مولانا محمد علی جوہر،حکیم اجمل خان اور ابوالکلام آزاد کی تصاویر بھی ہیں۔

وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد نے ڈاکٹرنجمہ ہیبت اللہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا، ’’ آج کا دن جامعہ کے لئے انتہائی شادمانی اور خوشی کا دن ہے۔ جامعہ کو اپنی چانسلر سے بہت امیدیں ہیں۔انھوں نے کہا کہ ان کی سر پرستی میں جامعہ ملیہ اسلامیہ مزید کامیابی کے منازل طئے کرے گی ۔ ڈاکٹر نجمہ ہیپت اللہ کے ساتھ بی جے پی لیڈر ترون وجئے بھی آئے تھے جن کے مشورے پر تعلیمی اداروں میں وال آف ہیروز کی تصاویر لگائی جا رہی ہیں ۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی پریم چند آرکائیز اینڈلیٹریری سینٹر کی ڈائریکٹر صبیحہ انجم زیدی نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کی تاریخ اور اس کی خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی ۔اس موقع پرجامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلباء و اساتذہ سمیت تمام ہی شعبہ جات کے صدرو اور ڈین و ڈائریکٹر حضرات موجود تھے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز