ڈاکٹر تسلیم رحمانی کا بہار کے سیلاب کو قومی آفت قرار دینے کا مطالبہ

بہار میں سیلاب کی تباہ کاریاں بڑھتی جارہی ہیںشمالی بہار سمیت متعدد اضلاع سیلاب کی زد میں ہیں جس سے تقریبا ایک کروڑ کی آبادی بری طرح متاثر ہو رہی ہے

Aug 16, 2017 08:39 PM IST | Updated on: Aug 16, 2017 08:39 PM IST

نئی دہلی : بہار میں سیلاب کی تباہ کاریاں بڑھتی جارہی ہیںشمالی بہار سمیت متعدد اضلاع سیلاب کی زد میں ہیں جس سے تقریبا ایک کروڑ کی آبادی بری طرح متاثر ہو رہی ہے ہزاروں گاؤں بہہ چکے ہیں اور سینکڑوں لوگ آنافانامرگئے فصلیں تباہ ہوچکی ہیں مکانات منہدم ہو رہے ہیں جو لوگ بچے ہیں ان کے پاس اشیاء خوردو نوش کا فقدان ہے سرکاری راحت ایجنسیاں بھی ناکافی ہیں این ڈی آر ایف کی ٹیمیں شہروں کے آس پاس ہی تعینات ہیں گاؤں تک رسائی نہیں ہے فوج کو بھی ابھی تک پوری طور پر تعینات نہیں کیا ہے کیمپوں کا انتظام بھی ناقص ہے ماہرین نے اس سیلاب کو رواں صدی کا سب سے خطرناک سیلاب قرار دیا ہے۔

ان خیالارت کا اظہار مسلم پولیٹیکل کونسل آف انڈیا کے قومی صدر ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی نے یہاں یہاں ایک پریس ریلیز میں کیا نہوں نے حکومت ہند سے مطالبہ کیا کہ بہار سیلاب کو قومی آفت قراردیا جائے اور متاثرہ علاقوں کو فوراً فوج کے حوالے کیا جائے انہوں نے مزید کہا کہ بہار کی آفت دوسال قبل اتراکھنڈ میں آنے والے سیلاب سے کئی گنا زیادہ شدید ہے۔ ایسے میں مرکزی حکومت کو مطلق دیر کئے بغیر بنا کسی بھید بھاؤ کے قومی آفت قراردیکر انتظامات کرنا ازحد ضروری ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ہند اپنی نگرانی میں ماہرین کی ایک ٹیم تشکیل دے کر بہار میں بار بار آنے والے سیلاب کے اسباب اور اس کے مستقل حل کی تجاویز تیار کرائے۔

ڈاکٹر تسلیم رحمانی کا بہار کے سیلاب کو قومی آفت قرار دینے کا مطالبہ

واضح رہے کہ بہار کے ا س علاقے میں جہاں بڑی تعداد میں مسلمانوں کی آبادیاں ہیں گذشتہ نصف صدی سے اس قسم کے خطرناک سیلاب آتے رہتے ہیں مگر مرکزی اور ریاستی سرکار نے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی حالانکہ اس مسلے میں عالمی بینک سے سینکڑوں ہزارڈالر کی امداد آچکی ہے۔ ڈاکٹر رحمانی نے الزام لگایا کہ بہار کا سیلاب افسران اور سیاست دانوں کی مشترکہ مالی بد عنوانیوں کا نتیجہ ہے جس کی تحقیق کی جانی چاہیئے۔ ڈاکٹر رحمانی نے کہا کہ مسلم پولیٹیکل کاؤنسل کا ایک وفد دوائیاں اور غذائی اجناس لے کر متاثرہ علاقوں کے دورے پر جارہا ہے اور وہاں ضلعی اور ریاستی افسران سے اور مقامی لوگوں سے رابطہ کرکے انتظامات کا جائزہ بھی لے گااور مختلف ضلعوں میں امدادی کیمپ بھی لگائے گا۔20 اگست کو روانہ ہو کر یہ وفد28 اگست تک سیمانچل میں رہے گا۔اس دورے میں سیلاب کے اسباب اور تباہ کاریوں کا موقع پر جائزہ لینے کی کوشش کی جائے گی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز